وائٹ ہاؤس میں محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آتا، ٹرمپ کا ردعمل

0 minutes, 0 seconds Read
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سرکاری ڈنر کے موقع فائرنگ کے واقعے پر ردعمل میں کہا ہے کہ اگر وہاں ایک بڑا محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا جبکہ بال روم کی تعمیر کے خلاف ایسا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ رات جو واقعہ پیش آیا اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہماری عظیم فوج، سیکرٹ سروس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مختلف وجوہات کی بنا پر گزشتہ 150 برس کے دوران ہر صدر نے اس بات پر زور دیا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر ایک بڑا، محفوظ اور سیکیور بال روم تعمیر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس میں اس وقت زیرتعمیر ملیٹری ٹاپ سیکرٹ بال روم موجود ہوتا تو یہ واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی تعمیر جتنی جلدی ہو سکے مکمل ہونی چاہیے، اگرچہ یہ خوبصورت ہے لیکن اس میں اعلیٰ ترین سطح کی تمام سیکیورٹی خصوصیات موجود ہیں اور اس کے اوپر کوئی ایسے کمرے نہیں ہیں جہاں غیر محفوظ افراد جمع ہو سکیں، یہ دنیا کی سب سے محفوظ عمارت وائٹ ہاؤس کے دروازے کے اندر واقع ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ محفوظ بال روم کی تعمیر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ مضحکہ خیز ہے، جو ایک خاتون نے اپنے کتے کو ٹلاتے ہوئے دائر کیا ہے، جن کو ایسا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے اور اس مقدمے کو فوری ختم کردینا چاہیے۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے اندر محفوظ بال روم کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تعمیر میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں ہونی چاہیے حالانکہ یہ منصوبہ بجٹ میں شامل ہے اور مقررہ وقت سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس میں گزشتہ شب صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کی تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ عہدیدار اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی تاہم امریکی صدر اور دیگر عہدیدار محفوظ رہے اور سیکیورٹی اداروں نے انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

بعدازاں حملہ آور کی شناخت کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے اور وہ ٹورینس میں یونیورسٹی کے لیے ٹیوشن سروس فراہم کرتا ہے۔

 

Similar Posts