پاسداران انقلاب نے ایک اور بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا

0 minutes, 0 seconds Read

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے جو مبینہ طور پر امریکی فوج سے رابطے میں تھا۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو پہلے آبنائے ہرمز میں مبینہ ناکہ بندی ختم کی جائے۔ یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی اور بحری نقل و حرکت پر پابندیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز نے آبنائے ہرمز میں عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی اور بارہا وارننگز کے باوجود اپنے راستے میں تبدیلی نہیں کی۔ ایران کے مطابق جہاز کی جانب سے ہدایات نظر انداز کیے جانے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ایرانی حکام نے مزید الزام عائد کیا کہ جہاز کا امریکی فوج سے رابطہ تھا تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

پاسداران انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس اسٹریٹجک بحری گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے “سرخ لکیر” تصور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث بحری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

اگر امریکا سنجیدہ ہے تو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے، ایران

دوسری جانب ایرانی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر امریکا واقعی بات چیت اور مذاکرات میں سنجیدگی رکھتا ہے تو اسے پہلے آبنائے ہرمز میں عائد کی گئی پابندیوں یا ناکہ بندی کو ختم کرنا ہوگا۔

بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ صورت حال میں خطے میں سمندری راستوں پر دباؤ اور پابندیاں کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہیں، جس کے باعث تجارتی اور بحری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

ایرانی فوج نے کہا کہ مذاکرات اور سفارتی عمل اسی وقت آگے بڑھ سکتے ہیں جب فریقین کی جانب سے عملی اقدامات کیے جائیں، جن میں بحری راستوں کی آزادی اور کشیدگی میں کمی شامل ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے مختلف ادوار جاری ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پہلے ہی محدود رپورٹ کی جا رہی ہے۔

Similar Posts