عدالت کا ملزمہ کو 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزمہ کمسن بچے کو اپنا بیٹا ظاہر کرکے موزمبیق لے جانے کی کوشش کررہی تھی۔ تفتیش کے دوران مختلف افراد پر مشتمل مبینہ گروہ کی نشاندہی ہوئی۔
دوران سماعت وکیل صفائی راجا ریاض ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کو غلط طور پر کیس میں شامل کیا گیا ہے۔ شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ ملزمہ کے خلاف ڈیجیٹل شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ کے مرکزی گواہ کے بیان سے ملزمہ کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوتے۔ ملزمہ کے خلاف مالی لین دین یا جعلی دستاویزات سے متعلق ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ ملزمہ کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں عدالت نے ضمانت منظور کرلی۔