19

کے ٹو کی چوٹی سر کرنے والے محمد علی سدپارہ کو پہاڑوں کی آغوش میں دفن کردیا

 محمد علی سدپارہ

رواں سال فروری میں کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کی مہم میں شہید ہونے والے محمد علی سدپارہ کو پہاڑوں کی آغوش میں دفن کردیا گیا ہے۔

محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کیمپ فور سے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر کی بلندی سے والد کا جسد خاکی کو نیچے اتارنا مشکل عمل تھا، بوٹل نیک سے ارجنٹینا کے کوہ پیما کی مدد سے ہم ان کے جسد خاکی کو کیمپ فور میں لائے اور اہل خانہ سے مشاورت کے بعد وہیں تدفین کردی۔

ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ میں نے قوم کی طرف سے والد کی قبر فاتحہ خوانی اور تلاوت بھی کی، قبر کی جگہ پاکستان کا جھنڈا بطور نشانی لگا دیا ہے تاکہ آئندہ اس مقام کو باقاعدہ شناخت مل سکے۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے کئی روز تک آپریشن جاری رہا تھا تاہم لاشیں نہ ملنے کے بعد ان کے صاحبزادے نے والد کے انتقال کا اعلان کر دیا تھا۔

محمد علی سدپارہ کے انتقال کے اعلان کو کئی مارہ گزرنے کے بعد چند روز قبل ان کے صاحبزادے ساجد علی سدپارہ نے والد کی موت کی وجوہات جاننے اور والد کے جسد خاکی کی تلاش کے لیے کے ٹو پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

انہیں کامیابی اس وقت ملی جب کے ٹو پہاڑ کے ’بوٹل نیک‘ کے قریب سے تین لاشیں ملیں، محمد علی سد پارہ کی لاش کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ پہلی لاش ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی ہے (کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی موجود ہے، کیونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہذا اسے بوٹل نیک کہتے ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے اور یہ کے ٹو کا مشکل ترین حصہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں