اسپیس اسٹیشن پر پھنسے خلا بازوں کو واپسی پر دردناک صورتحال کا سامنا، ہڈیاں تبدیل ہوگئیں

0 minutes, 1 second Read

امریکی خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور تکنیکی مسائل کے باعث نو ماہ سے خلا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دونوں خلا باز 8 روزہ مشن پر روانہ ہوئے تھے تام ان کی واپسی تاحال نہ ہوسکی۔

تاہم اب ان کی واپسی کیلئے حال ہی میں ایک خلائی طیارہ کریو-10 بھیج دیا گیا ہے جس کی امید ظاہر کی جا رہی ہے سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور زمین پر واپس آجائیں گے۔

مگر اتنے ماہ تک خلا میں وقت گزارنے کے بعد دونوں خلابازوں کی زمین پر واپسی کا سفر دشوار اور تکلیف دی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ بتایا جا رہا ہے کہ کئی مہینوں خلا میں رہنے کے بعد خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور میں ”بیبی فٹ“ (Baby Feet) نامی حالت پیدا ہو سکتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ان کے پیروں کے تلوے چھوٹے بچے کی طرح نرم اور حساس ہو جائیں گے جس سے چہل قدمی میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جب ہم زمین پر چلتے ہیں تو ہمارے پیروں کو کشش ثقل اور رگڑ کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ہمارے پیروں کے تلووں کی جلد موٹی ہو جاتی ہے، جو ایک حفاظتی تہہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ ہمیں درد اور تکلیف سے بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے، اور ہمارے پیروں کو ٹوٹ پھوٹ سے بھی بچاتا ہے۔

ماہ سے خلا میں پھنسی سنیتا ولیمز نے چلنے کا احساس یاد کرکے جذبات ظاہر کر دیے

بیبی فٹ کے علاوہ کشش ثقل کے بغیر خلا میں رہنا بھی ہڈیوں کے شدید نقصان کا سبب بن سکتا ہے جسے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ ناسا کے مطابق ہر ماہ خلاباز خلا میں جاتے ہیں اور اگر وہ انہیں روکنے کے لیے کچھ نہ کریں تو ان کی ہڈیاں اپنی کثافت کا تقریباً 1 فیصد کھو دیں۔ پٹھے، جو عام طور پر زمین پر گھومنے پھرنے سے متحرک ہوتے ہیں، وہ بھی کمزور پڑجاتے ہیں کیونکہ ان میں مزید کام کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔

ٹرمپ نے ایلون مسک کو سنیتا ولیمز کی زمین پر واپس لانے کی ذمے داری سونپ دی

اس کے علاوہ خلا میں جسم کے خون کا volume کم ہو جاتا ہے کیونکہ دل کو کشش ثقل کے بغیر خون پمپ کرنے کے لیے اتنی محنت نہیں کرنی پڑتی۔ خون کا بہاؤ بھی بدل جاتا ہے، کچھ حصوں میں سست ہو جاتا ہے، جو خون کے جمنے کا باعث بن سکتا ہے۔

Similar Posts