سلمان اکرم راجہ کے انسداد دہشتگردی عدالت سے جاری وارنٹ اسلام آباد ہائیکورٹ سے معطل

0 minutes, 0 seconds Read

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ کے انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) سے جاری وارنٹ معطل کر دیے جبکہ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے جاری ہونے والے وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی، جس میں وکیل سلمان اکرم راجہ ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے ۔

سماعت کے آغاز پر قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ پر الزام کیا ہے اور درخواست پر اعتراض کیا عائد کیا گیا ہے؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ الزام ہے کہ کسی پولیس اسٹیشن پر حملہ ہوگیا ہے، میں اس میں شامل تھا۔

اس پر قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے مسکراتے ہوئے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تو آپ ایسے نہ کریں ناں پھر، آپ کو پتہ ہے ناں آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے آپ بولتے بہت ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں پہلے گرفتار ہو چکا ہوں، پیشی کے باوجود وارنٹ جاری ہونا حیران کن ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست پر اعتراض کیا ہیں، جس پر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ میرے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوئے ، یہ سنجیدہ معاملہ ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ تو واقعی سنجیدہ معاملہ ہے۔

قائمقام چیف جسٹس نے پوچھا آپ پر الزام کیا ہے اور درخواست پر اعتراض کیا عائد کیاگیا ہے؟ سلمان اکرم راجا نے بتایا کسی پولیس اسٹیشن پر حملے میں شامل ہونے کا الزام ہے ۔ ایف آئی آر میں سو لوگوں کا نام لکھ دیا ہے کہ ان کا اتا پتہ معلوم نہیں ، ابھی کہہ رہے تفتیش کر رہے ہیں جن کا اتا پتہ نہیں ان کے وارنٹ جاری کر رہے ہیں ۔ پہلے گرفتار ہو چکا ، پیشی کے باوجود وارنٹ کا اجرا حیران کن ہے۔ عدالت نے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں روٹین میں ریگولر کورٹ میں پیش ہوتا ہوں۔ پی ٹی آئی رہنما نے سپریم کورٹ کا صغریٰ بی بی کیس کا حوالے بھی دیا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آفس اعتراض دُور کر کے کل پر سماعت رکھ لیتے ہیں تو سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پرسوں رکھ لیں، کل اڈیالہ جیل جانا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایف آئی آر میں 100 لوگوں کا نام لکھ دیا ہے کہ ان کا اتا پتہ معلوم نہیں، ابھی کہہ رہے تفتیش کر رہے ہیں جن کا اتا پتہ نہیں ان کے وارنٹ جاری کر رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے وارنٹ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔

قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کون ہے؟ اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن عدالت میں پیش ہوئے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

بعد ازاں کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔

Similar Posts