سینئر حکومتی عہدیدار کی معروف عالم دین پر تنقید

0 minutes, 0 seconds Read

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و حکومتی عہدیدار نے ارشاد بھٹی اور مولانا طارق جمیل کے انٹرویو کا ایک کلپ ری شئیر کیا جس میں ارشاد بھٹی عالم دین سے سخت سوالات کرتے نظر آئے۔ انھوں نے معروف عالم دین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ارشاد بھٹی کا معروف عالم دین مولانا طارق جمیل سے انٹرویو کا کلپ ری شیئر کرتے ہوئے حکومتی عہدیدار نے اپنے بیان میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے اس مولانا کو پہلی بار 6 اکتوبر 1999 کو کابینہ کی میٹنگ میں بیان دیتے دیکھا۔ میں نے اس وقت کہا کہ یہ عالم دین نہیں ہے قصہ خواں ہے۔

حکومتی عہدیدار نے لکھا کہ اس کی گفتگو کا علم اور دین سے کوئی تعلق نہیں۔ پرانے زمانے سے گاؤں اور شہروں کے گلی کوچوں میں پیشہ ور قصہ خواں ہوتے تھے اور جو محفلوں میں کہانیاں سناتے جو ساری ان کی اپنی ذہنی اختراع ہوتی۔

انھوں نے معروف عالم دین پر تنقید کرتے ہوئے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ ہمارے معاشرے کی ایک خاص بات سے تعلق رکھتے اور لوگ ان کی کہانیاں بڑے انہماک سے سنتے اور شام کو دن کے کام سے تھکے ہارے لوگوں کے لیے یہ انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ موصوف کی قصہ خوانی کا سارا فوکس صنف نازک پر ہوتا ہے۔ پشاور کا قصہ خوانی بازار بھی ان کے ہم پیشہ حضرات سے منسوب ہے۔ موصوف کی جنت میں 70 فٹ کی حور والی کہانی قصی خوانی کا شاہکار ہے۔

Similar Posts