عدالت نے این ایچ اے کو نان ایم ٹیگ گاڑیوں سے اضافی ٹول ٹیکس وصولی سے روک دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے نان ایم ٹیگ اور کم بیلنس والے ایم ٹیگ رکھنے والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس وصول کرنے کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت تک معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے این ایچ اے کو اضافی ٹول وصول کرنے سے روکتے ہوئے وزارتِ مواصلات سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعے کے روز جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایڈووکیٹ جلال حیدر کی جانب سے دائر درخواست کی۔ درخواست گزار ایڈووکیٹ جلال حیدر خود عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے این ایچ اے کو شہریوں سے اضافی ٹول ٹیکس وصول کرنے سے روک دیا اور 30 مئی 2025 کے نوٹیفکیشن کو آئندہ سماعت تک معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 3 اگست کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے این ایچ اے، وزارتِ مواصلات اور دیگر متعلقہ فریقین کو الگی سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ این ایچ اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے تحت موٹروے پر ایم ٹیگ کے بغیر یا مطلوبہ بیلنس نہ رکھنے والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول سرچارج عائد کیا گیا تھا۔

درخواست گزار ایڈووکیٹ جلال حیدر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اس کیس سے متعلق تفصیلات بتائے ہوئے کہا کہ دسمبر 2025 میں موٹروے پر فیصل آباد جارہے تھے کہ تو اس دوران این ایچ اے حکام نے ان سے زائد ٹول ٹیکس ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایڈووکیٹ جلال حیدر کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر این ایچ اے حکام سے اس حوالے سے نوٹفیکیشن طلب کیا تو انہیں فراہم نہیں کیا گیا جو بعد میں انٹرنیٹ پر مل گیا۔

درخواست گزار کے مطابق یہ نوٹیفیکیشن نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایکٹ کی ’دفعہ 10‘ کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایکٹ این ایچ اے کو صرف ٹول ٹیکس وصول کرنے کا اختیار دیتا ہے، ایکٹ کے مطابق ادارے کو سزا یا اضافی جرمانے عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اضافی سرچارج کسی قانونی بنیاد کے بغیر نافذ کیا گیا اور این ایچ اے نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 4، 18، 24 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ این ایچ اے کو ایم ٹیگ بیلنس سسٹم اور اس کے نفاذ کے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے جب کہ 30 مئی 2025 کے نوٹیفکیشن کے تحت وصول کیے گئے تمام اضافی چارجز واپس کرنے کی بھی ہدایت جاری کی جائے۔

Related posts