یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کا کہنا ہے کہ پاکستان کا فارماسیوٹیکل شعبہ آئندہ چند سالوں میں دوائیوں کی برآمدات کو 5 بلین ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یو بی جی، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) سے وابستہ تاجروں کا ایک اتحاد ہے، جو ملک کا اعلیٰ ترین تجارتی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔
مالی سال 2023-24 میں پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 3.29 بلین ڈالر لگایا گیا تھا، جبکہ اسی سال شعبے کی برآمدات 341 ملین ڈالر تک پہنچیں۔
جمعہ کو جاری کئے گئے یو بی جی کے بیان کے مطابق، یہ شعبہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں ایک فیصد سے زیادہ کا حصہ ڈالتا ہے اور سالانہ دو ارب ڈالر کی بچت درآمدات کے متبادل کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ فارماسیوٹیکل شعبہ ملک کی مجموعی برآمدات میں اضافے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یو بی جی کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’اس شعبے کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے، حکومت کو فارما انڈسٹری کے لیے مراعات فراہم کرنی چاہئیں، کاروبار میں آسانی کو یقینی بنانا چاہیے، اور ٹیرف میں رد و بدل، تجارتی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے برآمدات کو بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے‘۔
غیر ضروری ادویات: ڈی ریگولیشن سے فارما انڈسٹری کو فروغ
یو بی جی کے صدر زبیر طفیل اور دیگر کاروباری رہنماؤں، جن میں خالد تواب، حنیف گوہر اور سید مظہر علی ناصر شامل ہیں، نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ وقت فارماسیوٹیکل سیکٹر پر توجہ دینے کے لیے موزوں ہے، کیونکہ حکومت معاشی استحکام حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’242 ملین مقامی صارفین اور 700 سے زائد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ، پاکستان عالمی آف-پیٹنٹ (Off-Patent) دوائیوں کی مارکیٹ میں داخل ہونے کی اچھی پوزیشن میں ہے، جس کی مالیت 2026 تک برانڈڈ جینرکس میں 700 بلین ڈالر اور عمومی جینرکس میں 381 بلین ڈالر ہونے کی توقع ہے۔‘
فی الوقت پاکستان کی فارما انڈسٹری نے مخصوص مارکیٹوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ازبکستان، نائیجیریا اور افغانستان جیسے ممالک میں فارماسیوٹیکل مصنوعات بڑی برآمدی اشیاء میں شمار کی جاتی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایک منظم مارکیٹ ڈیولپمنٹ اسسٹنس (ایم ڈی اے) پروگرام، جیسا کہ بھارت میں لاگو کیا گیا ہے، مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے ضروری مدد فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے مقامی ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس (اے پی آئی) کی پیداوار کی مکمل جانچ سے پہلے محصولات عائد نہ کرنے کی وکالت کی ہے، کیونکہ اس سے پاکستانی فارما مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام اور ان کی مسابقت برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
چیلنجز اور مواقع
یہ شعبہ مستحکم سپلائی چین اور خام مال کی قابل بھروسہ دستیابی کے چیلنجز کا بھی سامنا کر رہا ہے، جو بیرونی منڈیوں میں طویل مدتی معاہدے حاصل کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
عالمی منڈیوں میں عام طور پر طویل مدتی معاہدے کیے جاتے ہیں، جو سات سال تک کے عرصے پر محیط ہوتے ہیں، اس لیے سپلائی چین میں تسلسل اور مستحکم خریداری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
حکومت غیر ملکی زر مبادلہ کے حصول اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے مختلف راستے تلاش کر رہی ہے، جس میں غیر قرضہ جاتی برآمدات پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے باوجود برآمدات میں متوقع اضافہ نہیں ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔