افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین قانع نے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے استعفے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی میڈیا رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی میڈیا نے اس حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان کے اندرونی ذرائع کے مطابق سراج الدین حقانی کا استعفیٰ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ سے شدید اختلافات کے باعث سامنے آیا ہے، جو طالبان قیادت میں بڑھتی ہوئی بغاوت کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سراج الدین حقانی نے طالبان حکومت کی کئی پالیسیوں، خصوصاً خواتین کی تعلیم، خارجہ پالیسی اور طرز حکمرانی کی شدید مخالفت کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے اور اب کابل واپسی کے بعد آرام کر رہے ہیں۔
طالبان نے بزرگ برطانوی جوڑے کو ”ہائی سیکیورٹی جیل“ منتقل کر دیا
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ سراج الدین حقانی نے طالبان قیادت میں اختلافات اور وزیر داخلہ کے طور پر اپنے فرائض سے طویل غیر حاضری کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔ بنیادی طور پر اقتدار کی اندرونی کشمکش اور رائے میں اختلافات تھے جو ان کے استعفیٰ کا باعث بنے۔
افغان ترجمان نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ حقائق کو رپورٹ کریں اور افواہوں اور پروپیگنڈے سے گریز کریں۔