رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالی کے غزہ کی سرنگوں کے حوالے سے ہوشرُبا انکشافات

0 minutes, 0 seconds Read

حماس کی زیر زمین سرنگیں نہ صرف جنگی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں بلکہ یرغمالیوں کے لیے بھی قید خانے کا کام کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالی تال شوہام نے اپنی 505 دن کی اسیری کی تفصیلات بتاتے ہوئے حماس کی ان سرنگوں کے بارے میں کئی تفصیلات فراہم کیں۔

”فاکس نیوز“ کے مطابق تال شوہام کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنگجو زبردستی اسرائیل کے علاقے کیبٹز بیعری سے اغوا کرکے غزہ لے گئے۔ پہلے اسے گھروں میں قید رکھا گیا، پھر جون 2024 میں ایک سرنگ میں منتقل کر دیا گیا جہاں پہلے ہی ایک اور مغوی موجود تھا۔ سرنگ میں ہوا کا دباؤ کم تھا، روشنی نہ ہونے کے برابر تھی، اور بیت الخلا کے لیے زمین میں ایک سوراخ بنایا گیا تھا۔

تال شوہام کے مطابق، ’حماس نے سرنگوں کی کھدائی ایک دن کے لیے بھی بند نہیں کی، یہاں تک کہ جب جنگ پورے زور و شور سے جاری تھی‘ تب بھی وہ کھدائی کرتے رہے’۔

نیتن یاہو نے حماس سے شکست تسلیم کرنے والے اعلیٰ فوجی افسر کو فارغ کردیا

اسرائیلی حملوں کے باوجود نیٹ ورک بدستور فعال

رپورٹ کے مطابق شدید اسرائیلی بمباری کے باوجود حماس کا زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک بدستور فعال ہے اور اس کی کامیابی سے بحالی جا ری ہے۔ جولائی 2024 کی رپورٹس کے مطابق، حماس نے بمباری سے متاثرہ سرنگوں کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنا دیا ہے، جبکہ یہ نیٹ ورک اسرائیلی حملوں کے خلاف محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حماس کا سرنگی نیٹ ورک 500 کلومیٹر تک پھیلا ہو سکتا ہے، جو نیویارک سٹی کے سب وے سسٹم کی نصف لمبائی کے برابر ہے۔ اسرائیلی فوج اسے ”غزہ میٹرو“ کا نام دیتی ہے، کیونکہ یہ پورے شہر کے نیچے وسیع رسائی رکھتا ہے اور حماس کے جنگجوؤں کو اسرائیلی ڈرون اور فضائی حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

امریکی جریدے “وال سٹریٹ جرنل’ کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، حماس نے اسرائیل کے خلاف ممکنہ نئی جنگ کے لیے اپنی فورسز کو منظم کرنا شروع کر دیا ہے۔ تنظیم نے نئے کمانڈرز کی تقرری کی ہے اور گوریلا جنگ کے لیے جنگجوؤں کی تعیناتی کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔

مزید برآں، حماس نے اپنے نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں میں تربیتی کتابچے تقسیم کیے ہیں، جن میں سرنگوں کے نیٹ ورک کے استعمال، گوریلا جنگی حکمت عملیوں، اور اسرائیلی افواج کے خلاف ممکنہ کارروائیوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔

اگرچہ اسرائیل نے سرنگوں کو ختم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں جدید سینسرز سے لیس 40 میل لمبی زیرِ زمین کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر بھی شامل ہے، لیکن حماس نے اپنی سرنگوں کو دوبارہ تعمیر اور مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت ثابت کی ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا پر امریکا کا فضائی حملہ، اموات 31 ہوگئیں

یہ سرنگیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، جن میں جنگجوؤں اور اسلحے کی نقل و حرکت، گولہ بارود کا ذخیرہ، اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کا قیام شامل ہے۔

اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق، یہ نیٹ ورک حماس کو نہ صرف حملوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ طویل مدتی جنگ کے لیے اسے طاقتور بناتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، حماس کی سرنگوں کا نیٹ ورک نہ صرف اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ ان میں یرغمالیوں کو قید رکھنے کا منظم نظام بھی موجود ہے۔ ان سرنگوں کے خلاف کارروائی حماس کی جنگی حکمت عملی کو کمزور کر سکتی ہے، مگر اس کے لیے ایک پیچیدہ فوجی آپریشن درکار ہوگا۔

Similar Posts