4

کون سا ایسا طریقہ کار جو ذیابیطس کو ریورس کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے؟

ذیابیطس

ذیابیطس کو لاعلاج مرض سمجھا جاتا ہے جس کو دوا اور طرز زندگی کی مدد سے کنٹرول تو کیا جاسکتا ہے مگر اس سے مکمل نجات ممکن نہیں۔

مگر طبی ماہرین کے خیال میں غذا میں تبدیلی لاکر ذیابیطس ٹائپ ٹو سے نجات یا اسے ریورس کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی اور برطانیہ کی ٹیسسائیڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا اور طبی ماہرین (فارماسٹ) کی نگرانی کے ذریعے ذیابیطس کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق میں ماہرین کے زیرانتظام ایک خصوصی غذائی پلان تیار کیا گیا اور 12 ہفتوں تک ذیابیطس کے مریضوں پر اس کی آزمائش کی گئی۔

ان مریضوں کو کم کیلوریز، کم کاربوہائیڈریٹس، زیادہ پروٹین والی غذائی پلان دیا گیا اور ان کی ادویات کے استعمال کی مانیٹرنگ ماہرین نے کی۔

محققین نے بتایا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کا علاج ہوسکتا ہے اور کئی بار اسے غذائی مداخلت کے ذریعے ریورس بھی کیا جاسکتا ہے ، مگر ہمیں ایسی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ غذائی عادات میں تبدیلی پر عمل کرسکیں جبکہ اس دوران ان کی ادویات کی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھی جائے۔

انہوں نے کہا کہ فارماسٹ کو ادویات کے حوالے سے مہارت ہوتی ہے اور وہ ذیابیطس کے مریضوں کی نگہداشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ذیابیطس کے مریض کم کیلوریز یا کاربوہائیڈریٹس والی غذا استعمال کرتے ہیں، تو ان کو گلوکوز کی سطح کم کرنے والی ادویات کا استعمال کم کرنے یا نہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، کمیونٹی فارماسٹ اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں 50 فیصد رضاکاروں کو کم کیلوریز اور کم کاربوہائیڈریٹس اور زیادہ پروٹین والی غذا کا استعمال کرایا گیا جبکہ اس دوران ماہرین نے اس کا معائنہ جاری رکھا۔

12 ہفتے بعد ذیابیطس کے ایک تہائی مریضوں کے لیے ادویات کی ضرورت نہیں رہی جبکہ کنٹرول گروپ کو بدستور ادویات کی ضرورت رہی۔

محققین کے مطابق پہلے گروپ کے گلوکوز کنٹرول، اوسط جسمانی وزن، بلڈ پریشر اور مجموعی صحت میں نمایاں بہتری بھی آئی۔

انہوں نے بتایا کہ غذائی حکمت عملی کو اپنانا بیماری کو ریورس کرنے کی کنجی ہے جس کے ساتھ ضروری ہے کہ فارماسٹ بھی ادویات کے استعمال کی مانیٹرنگ کرے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر کمیونیکشن میں شائع ہوئے۔

خیال رہے کہ 2019 میں دنیا بھر میں ذیابیطس کے 46 کروڑ سے زائد مریضوں کی موجودگی کے اعدادوشمار سامنے آئے تھے جن میں سے 90 فیصد ذیابیطس ٹائپ 2 کے شکار ہیں۔

ذیابیطس کے نتیجے میں امراض قلب، فالج اور گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ موٹاپے کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بننے والا اہم ترین عنصر مانا جاتا ہے، جبکہ کچھ جینیاتی عناصر بھی اس کا باعث بنتے ہیں۔

اس سے قبل دسمبر 2020 میں برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور اٹلی کی میلان یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جسمانی وزن میں کمی لاکر ذیابیطس کی روک تھام یا اسے ریورس کرنے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

تحقیق کے دوران ساڑھے 4 لاکھ کے قریب افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 57 سال تھی اور ان میں 54 فیصد خواتین تھیں۔

ذیابیطس کے موروثی خطرے کے تجزیے کے لیے 69 لاکھ جینز کا تجزیہ کیا گیا جبکہ قد اور وزن کی بھی جانچ پڑتال کی گئی۔

ان افراد کو ان کے جسمانی وزن کے مطابق 5 گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا اور پھر ان کا جائزہ مزید کئی سال تک لیا گیا، جس کے دوران 31 ہزار سے زائد میں ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص ہوئی۔

محققین نے دریافت کیا گیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن زیادہ تھا، ان میں ذیابیطس کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 11 گنا زیادہ تھا۔

یعنی جسمانی وزن جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا، چاہے جینیاتی خطرات جو بھی ہوں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ جسمانی وزن جینیاتی عناصر کے مقابلے میں ذیابیطس کی پیشگوئی کا سب سے طاقتور عنصر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے بیشتر کیسز کی روک تھام جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھ کر ممکن ہے جس سے بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ذیابیطس کی روک تھام کے لیے جسمانی وزن اور بلڈ شوگر کی جانچ پڑتال کو معمول بنانا چاہیے جبکہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے کوششیں اس وقت شروع کردینی چاہیے جب بلڈ شوگر بڑھنے لگے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں