مصطفیٰ قتل کیس میں بڑی پیشرفت، ملزم ارمغان نے اعترافی بیان ریکارڈ کروادیا

0 minutes, 0 seconds Read

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اغوا کے بعد قتل ہونے والے مصطفیٰ عامر کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، کیس کے مرکزی ملزم ارمغان نے اعترافی بیان ریکارڈ کروادیا جبکہ پولیس کی ریمانڈ رپورٹ میں ملزم کے اعترافی بیان ریکارڈ کروانے کی تصدیق کردی گئی۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ریمانڈ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم سے برآمد لیپ ٹاپ اور موبائل فون کو فارنسک کے لیے پنجاب فارنسک لیب بھیجا ہے، ملزم نے ایس ایس پی اے وی سی سی کے روبرو اعتراف جرم ریکارڈ کروایا ہے۔

ملزم نے اعتراف کیا کہ مصطفی عامر کے قتل کے بعد والد کامران قریشی کو بتایا تھا، ملزم کے بیان کی روشنی میں ملزم کے والد کامران قریشی سے بھی تفتیش کرنی ہے، ملزم سے تفتیش نامکمل ہے، جسمانی ریمانڈ میں 24 مارچ تک توسیع کی جائے۔

ارمغان نے اپنے والد پر بھی عدم اعتماد کر دیا، ملاقات اور وکیل کو ماننے سے انکار

قبل ازیں کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 6 دن کی توسیع کردی جبکہ ارمغان نے اپنے والد پر عدم اعتماد کردیا، ملزم نے ملاقات اور وکیل کو بھی ماننے سے انکار کردیا۔ وکیل صفائی کی ضمانت پر والدین کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ملی، شور شرابے پر پولیس اہلکار ارمغان کے والد کو باہر لے گئے۔

کراچی میں مصطفی عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش دیا گیا، ملزم ارمغان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پرعدالت لایا گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے صحافی پر حملے کے مقدمہ میں ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں 24 مارچ تک توسیع کردی ہے۔

عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 6 دن کی توسیع کردی، دوران سماعت شورشرابہ کرنے پر جج نے ملزم کے والد کامران قریشی کو عدالت سے باہرنکال دیا۔

ملزم ارمغان کے والد کا کمرہ عدالت میں شور شرابہ

سماعت کے دوران وکیل صفائی کی استدعا پر ملزم کے والدین کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت مل گئی، وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ہم گارنٹی دیتے ہیں کوئی شور شرابہ نہیں ہوگا۔

سماعت کے دوران ملزم کے والد نے کمرہ عدالت میں شور شرابہ شروع کردیا جس کے بعد ملزم ارمغان کے والد کو پولیس اہلکار کھینچ کر باہر لے گئے۔

ملزم ارمغان نے والد کی جانب سے کیے گئے نئے وکیل کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ملزم نے والد سے ملاقات سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ وکیل نہیں چاہیے، میرا والد سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔

اے ٹی سی کمپلکس میں صحافیوں کا داخلہ بند کردیا گیا، سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں، ہمیں اعلیٰ افسران کی جانب سے اندرچھوڑنے کی اجازت نہیں۔

ملزم ارمغان بہت شاطر ہے، پولیس کیلئے اسے ہینڈل کرنا آسان نہیں، مصطفیٰ کی والدہ کے انکشافات

قبل ازیں ملزم ارمغان کے والد کو بھی اندر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ ملزم ارمغان کے والد نے عدالت کو درخواست لکھ دی جس میں کہا گیا کہ مجھے بیٹے سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

درخواست میں ارمغان کے والد نے کہا کہ ملاقات ضروری ہے تاکہ وکیل کی تبدیلی کے حوالے سے آگاہ کر سکوں، یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، فیئرٹرائل کیلئے مجھے بیٹے سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

ارمغان نے عدالت کے روبرو اعتراف جرم کی خواہش کا اظہار

اے ٹی سی کراچی میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کی سماعت کے دوران وکیل صفائی طاہر تنولی کا کہنا ہے کہ ملزم ارمغان اعتراف جرم کے لیے تیار ہوگیا ہے۔

وکیل طاہر تنولی نے کہا کہ عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اعتراف جرم کی ہدایت کی ہے، ملزم کو اتنا پریشان کیا گیا ہے کہ وہ اعتراف جرم کے لیے بھی تیار ہے۔

Similar Posts