امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق تمام خفیہ دستاویزات جاری کر دی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نیشنل آرکائیوز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر منگل کو مقتول صدر جان ایف کینیڈی کے نومبر 1963 کے قتل سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کیں۔
ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جان ایف کینیڈی (JFK) کے قتل سے متعلق ہزاروں صفحات پر مشتمل سرکاری فائلیں جاری کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں مؤرخین اور انٹرنیٹ تحقیق کار ایک نئے سرے سے اس تاریخی واقعے کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں، جو امریکا کی تاریخ کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ہے۔
77 نوبیل انعام یافتگان نے ٹرمپ کیخلاف محاذ قائم کرلیا
آسکر ایوارڈز: کونسی فلمیں اور اداکار اس بار دوڑ میں ہیں؟
امریکی میڈیا کے مطابق نیشنل آرکائیوز نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ”تمام وہ ریکارڈز جو پہلے خفیہ قرار دے کر روکے گئے تھے، اب جاری کر دیے گئے ہیں“ اور انہیں یا تو آن لائن یا ذاتی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آرکائیوز نے اپنی ویب سائٹ پر ابتدائی طور پر تقریباً 63,000 صفحات پر مشتمل دستاویزات اپ لوڈ کی ہیں، اور مزید فائلیں جیسے جیسے ڈیجیٹلائز ہوں گی، آن لائن شائع کی جائیں گی۔
قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر سے جس کی قیادت ٹلسی گیبارڈ کر رہی ہیں، نے بتایا کہ اس اجرا میں تقریباً 80,000 صفحات پر مشتمل پہلے سے خفیہ شدہ ریکارڈ شامل ہیں۔
جے ایف کینیڈی کے قتل کی خفیہ دستاویزات سامنے لانے کا حکم دے دیا ہے، ٹرمپ
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے جنوری میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں سابق صدر کے قتل سے متعلق باقی تمام فائلوں کے اجرا کا حکم دیا گیا، اس کے علاوہ سابق امریکی سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی اور شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق ریکارڈز بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا شبہ ہے کہ دستاویزات جان ایف کینیڈی کے قتل کے حقائق کو تبدیل کر دیں گی۔
واضح رہے کہ صدرکینیڈی کو امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں 22 نومبر 1963 میں گولی مار دی گئی تھی۔