لیڈز ٹیسٹ: انگلینڈ کی پہلی اننگز میں بیٹنگ جاری، پاکستان پر واضح برتری

لیڈز ٹیسٹ کے دوسرے روز انگلینڈ کی پہلی اننگز میں بیٹنگ جاری ہے، اب سے کچھ دیر پہلے تک میزبان ٹیم نے پاکستان کے 171 رنز کے جواب میں 62 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 283 رنز بنالیے ہیں اور قومی ٹیم پر 112 رنز کی برتری حاصل کرلی ہے۔

انگلینڈ کے شہر لِیڈز کے ہیڈنگلے کرکٹ گراؤنڈ کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز کا کھیل بارش کے باعث اپنے مقررہ وقت پر شروع نہ ہوسکا۔ ہیڈنگلے میں جمعرات کو ہونے والی شدید بارش کے باعث پہلے سیشن کا پورا کھیل ضائع ہوگیا اور بارش تھمنے کے کوئی آثار نہ ہونے کی وجہ سے امپائرز کو کھانے کے وقفے کا اعلان کرنا پڑا۔

موسم بہتر ہونے کے بعد دوسرے روز کا کھیل دوبارہ شروع ہوا تو انگلینڈ نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 112 رنز 2 کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے سے کیا۔

جورڈن کوکس اور کپتان جو روٹ نے شاندار بلے بازی کی بدولت ٹیم کے مجموعی اسکور میں مزید 86 رنز کا اضافہ کیا اور ٹیم کا اسکور 198 رنز تک پہنچایا۔ اس دوران دونوں بلے بازوں نے اپنی اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کیں جب کہ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 150 رنز کی شراکت داری بھی قائم ہوئی۔

انگلینڈ کی تیسری وکٹ 198 رنز پر اس وقت گری جب جورڈن کوکس 14 چوکوں کی مدد سے 73 رنز بنانے کے بعد اسپنر علی عثمان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد اگلے ہی اوور میں 202 کے مجموعی اسکور پر جوروٹ بھی اپنی وکٹ گنوا بیٹھیں، انہوں نے 10 چوکوں کی مدد سے 66 رنز کی اننگز کھیلی۔

اس وقت انگلینڈ کی بیٹنگ جاری ہے، میزبان ٹیم نے 62 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 283 رنز بنالیے ہیں اور اسے پاکستان پر 112 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔

انگلش بلے باز ڈین لارنس 37 اور ہیری بروک 44 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس، محمد علی، علی عثمان اور خرم شہزاد نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

کھیل کا پہلا روز

گزشتہ روز انگلینڈ کی دعوت پر پاکستان کی جانب سے اذان اویس اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا لیکن اذان اویس اننگز کی پہلی ہی گیند پر اولی روبنسن گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے جب کہ پانچویں اوور میں 6 کے مجموعی اسکور پر شان مسعود بھی 5 رنز بناکر چلتے بنے۔

انگلینڈ کی جانب سے جارحانہ انداز میں بولنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ 10 ویں اوور میں بارش کے باعث کھیل روکنا پڑگیا، اس وقت پاکستان کا اسکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 23 اسکور تھا۔

مسلسل ہونے والی بارش کے باعث میچ میں کھانے کا وقفہ کردیا گیا تاہم وقفے کے بعد عبداللہ شفیق اور امام الحق نے محتاط انداز میں ٹیم کا اسکور آگے بڑھاتے ہوئے مجموعی اسکور 97 تک پہنچایا۔ اس دوران دونوں بلے بازوں کے درمیان 91 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی تاہم 97 کے اسکور پر پاکستان کو تیسرا نقصان امام الحق کی صورت میں اٹھانا پڑا، امام الحق 42 رنز بنانے کے بعد جوش ٹنگ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

امام الحق کے آؤٹ ہوتے ہی ایک بار پھر وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ایک وقت پر پاکستان ٹیم کی 97 رنز 3 وکٹیں گری تھیں تاہم اگلی 7 وکٹیں ٹیم کے مجموعی اسکور میں 74 رنز کے اضافے کے بعد سوکھے پتوں کی طرح گر گئیں۔

پاکستان کی جانب سے عبداللّٰہ شفیق سب سے زیادہ 61 رنز بناکر نمایاں رہے، اس کے علاوہ کپتان سلمان علی آغا 21، خرم شہزاد 14، محمد رضوان 12، شان مسعود اور سعود شکیل 5،5 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

اس طرح پاکستانی بیٹرز انگلینڈ کی بولنگ لائن کا 50 اوورز بھی جم کر سامنا نہ کرسکے اور پوری ٹیم 48.1 اوورز میں 171 رنز بناکر پویلین لوٹ گئی۔

انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولر اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے 5،5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

171 رنز پر پاکستانی اننگز کا خاتمہ کرنے کے بعد انگلش ٹیم بیٹنگ کے لیے میدان میں اتری اور اپنی پہلی اننگز کا تیز آغاز کیا اور اوپنرز بین ڈکٹ اور ایمیلی گائے نے 36 رنز کی شراکت قائم کی تاہم پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عباس نے 10 ویں اوور میں ڈکٹ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کردیا۔

اس کے بعد 48 کے اسکور پر محمد علی نے ایمیلی گائے کو 33 رنز پر آؤٹ کردیا جب کہ انہوں نے 31 گیندوں کا سامنا کیا اور 7 چوکے لگائے۔

اس طرح انگلینڈ نے پہلے روز کھیل کے اختتام پر 2 وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز بنائے، جورڈن کاکس 37 اور کپتان جو روٹ 23 رنز کے ساتھ کریز پر موجود رہے جب کہ میزبان ٹیم پاکستان کے پہلی اننگز کے 171 رنز کے جواب میں 59 رنز پیچھے رہی۔

میچ کا ٹاس

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہیڈنگلے کرکٹ گراؤنڈ کھیلے جا رہے 3 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلش کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔

ٹاس جیتنے کے بعد انگلش کپتان جو روٹ کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی میرے لیے فخر کی بات ہے، پاکستان کو کم سے کم اسکور پر آئوٹ کرنے کی کوشش کریں گے، وکٹ میں کچھ نمی موجود ہے جس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے کہا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ ہی کرنا چاہتے تھے،گزشتہ روز آخری لمحات میں معلوم ہوا کہ میں کپتانی کروں گا،ہر سیریز ایک موقع ہوتی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ یہاں کامیابی حاصل کی جائے۔

پاکستان کی فائنل الیون میں کپتان سلمان علی آغا، امام الحق، اذان اویس، عبداللّٰہ شفیق، شان مسعود، سعود شکیل، محمد رضوان، علی عثمان، خرم شہزاد، محمد علی اور محمد عباس شامل ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم میں کپتان جو روٹ، ایمیلی گائے، بین ڈکٹ، جارڈن کوکس، ہیری بروک، ڈین لارنس، جیمی اسمتھ، گس ایٹکنسن، جوفرا آرچر، اولی روبنسن اور جوش ٹنگ شامل ہیں۔

یاد رہےکہ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ اگست کی 27 تاریخ کو تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں اور تیسرا و آخری ٹیسٹ نو ستمبر سے برمنگھم کے ایجبیسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان ٹیم کو پہلے ٹیسٹ سے قبل ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب مستقل کپتان بابر اعظم پریکٹس میچ کے دوران ہاتھ پر گیند لگنے سے زخمی ہو کر پہلے میچ سے باہر ہو گئے۔ ان کی غیر موجودگی میں سلمان علی آغا پاکستان کے 36ویں ٹیسٹ کپتان کے طور پر قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔

سلمان علی آغا اس سے قبل دو ون ڈے اور پچاس ٹی 20 میچوں میں قومی ٹیم کی کپتانی کر چکے ہیں جب کہ وہ 27 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وکٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر رہنے والے شان مسعود بھی اب انتخاب کے لیے دستیاب ہیں۔

قومی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز برابر کرنے کے بعد انگلینڈ پہنچی تھی جہاں انہوں نے تھری ڈے پریکٹس میچ میں سعود شکیل کی شاندار سنچری کی بدولت زبردست کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کے ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پریکٹس میچ بہت اچھا رہا، ہم نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور وارم اپ میچ بھی جیتا ہے۔ ٹیم کے حوصلے بہت بلند ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ پوری ٹیم یہاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے سلمان علی آغا کی کپتانی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ٹیم مینجمنٹ ہمیں لِیڈز ٹیسٹ میں سلمان کی قیادت پر پورا بھروسہ ہے۔ وہ ان کھلاڑیوں میں سے ہیں جو قیادت کی ذمہ داری ملتے ہی مزید پرعزم ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک بابر اعظم کا تعلق ہے تو یہ بدقسمتی ہے کہ ان کے ہاتھ پر گیند لگی، لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ دوسرے ٹیسٹ کے لیے مکمل فٹ ہو کر ٹیم میں واپس آ جائیں گے۔

تاریخی لحاظ سے پاکستان کا انگلینڈ کی سر زمین پر ریکارڈ کافی نمایاں رہا ہے جہاں قومی ٹیم نے لارڈز میں پانچ، اوول میں چار اور لِیڈز و مانچسٹر میں ایک ایک ٹیسٹ جیتا ہے۔ اب تک دونوں ممالک کے درمیان کھیلے گئے بانوے ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستان نے تئیس میں فتح حاصل کی ہے جبکہ انتالیس میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت انگلینڈ ساتویں اور پاکستان آٹھویں نمبر پر موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

Related posts