پاک افغان بارڈر طور خم کو 25 دن کی بندش کے بعد باقاعدہ طور پر دو طرفہ تجارت کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پہلی تجارتی گاڑی افغانستان روانہ ہو گئی۔
تفصیلات کے مطابق پاک افغان سرحدی گزر گاہ طور خم 25 روز بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی، زیرو پوائنٹ پر دونوں ممالک کے جرگہ ممبران کے مابین مختصر ملاقات ہوئی، ملاقات کے بعد مال بردار گاڑیوں نے بارڈر کراس کیا۔
گزشتہ 25 روز سے سرحد کی بندش کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی عمل معطل تھا، جس سے تاجروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
آج بارڈر کھلنے کے بعد سامان سے لدی پہلی گاڑی طورخم کے راستے افغانستان روانہ کر دی گئی، جس سے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
پاک افغان طورخم سرحد کو آج 25 روز بعد کھولنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق، بارڈر کی بندش کے دوران سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس کر رہ گئی تھیں، جس کی وجہ سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
سرحد کے دوبارہ کھلنے پر تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ایسے تعطل سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
کسٹمز حکام کے مطابق، اب تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر لانے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان درآمدات و برآمدات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان کی جانب طور خم بارڈر پر انفرااسٹرکچر کی تعمیرات کے بعد پاکستان کی جانب سے طور خم سرحد کو 25 روز قبل بند کر دیا گیا تھا، اس کے بعد افغان فورسز کی سرحدی علاقے میں بلا اشتعال فائرنگ کے بعد علاقے سے نقل مکانی کی اطلاعات بھی ملی تھیں۔
پاکستان اور افغانستان کے قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگہ ارکان نے مذاکرات کے 3 سیشن کیے، اس دوران دونوں ممالک کو پیشرفت سے آگاہ کیا جاتا رہا۔
طورخم بارڈر پر جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے گرینڈ قبائلی جرگہ تشکیل
پاکستان نے واضح کیا تھا کہ سرحدی پر کسی قسم کی افغان تعمیرات قابل قبول نہیں ہیں، سرحد کھولنے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان غیرقانونی تعمیرات فوری روک دے، جس پر افغان جرگہ فریق نے اتفاق کیا تھا۔
پاک افغان جرگے کا مستقل فائربندی اور طور خم بارڈر کھولنے پر اتفاق
یاد رہے کہ پاک افغان طور خم سرحد کی بندش سے تجارت معطل ہوگئی تھی، جس کے باعث یومیہ 30 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا تھا، سرحد کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم اڑھائی ارب ڈالر سے کم ہو کر ڈیڑھ ارب ڈالر تک آگیا تھا۔