رمضان المبارک کی برکتیں ہر لمحہ اپنی رحمتیں بکھیر رہی ہیں، اور ان ہی روح پرور ساعتوں میں آج کی خصوصی رمضان ٹرانسمیشن کا آغاز ہوا۔ ہمیشہ کی طرح، سدرہ اقبال نے اپنی خوشگوار مسکراہٹ اور پُراثر انداز میں پروگرام کا آغاز کیا، جس سے ماحول میں ایک مثبت توانائی بھر گئی۔
پروگرام کا پہلا مرحلہ خوش ذائقہ پکوانوں سے مزین تھا، جہاں سمرا نے آج کے اسپیشل پکوان ’سیخ کباب ہانڈی‘ اور ’پوٹیٹو چیز چاٹ‘ بنانے کا بتایا۔ جیسے ہی سدرہ اقبال نے ان دلچسپ ڈشز کے نام سنے، تو ان کی شوخی سے بھرپور مسکراہٹ مزید چمک اٹھی۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا، ’روزانہ کچھ نیا اور منفرد دیکھنے کو ملتا ہے، کل انڈا چاٹ بنی تھی اور آج پوٹیٹو چیز چاٹ۔‘
مزیدار پکوانوں کی ترکیب جاننے کے دوران سدرہ اقبال کا ایک اور معصومانہ مگر دلچسپ سوال آیا، ’اگر انگریز چاٹ مسالا کھائے تو اس کا کیا ردِعمل ہوگا؟‘ جس پرسمرا نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ’اتنا زیادہ چاٹ مسالا نہیں ڈالیں گے، تھوڑا سا رکھیں گے تاکہ انگریز بھی مزے سے کھا سکے۔‘ یہ لمحہ نہ صرف مہمانوں کے چہروں پر مسکراہٹ لے آیا بلکہ رمضان کی محفل میں ہلکی پھلکی خوشگواریت کا بھی اضافہ کر گیا۔
ایشیائی کھانوں کی پہچان ہی ان کے چٹ پٹے ذائقے اور منفرد مسالے ہیں، جبکہ مغربی کھانوں میں نسبتاً ہلکی اور سادہ ترکیبیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں جو کھانے مزیدار سمجھے جاتے ہیں، وہ اکثر یورپی یا امریکی افراد کے لیے کچھ زیادہ تیز ہو سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی انگریز پہلی بار چاٹ مسالا یا گرم مسالے والا کھانا کھاتا ہے، تو اس کا ردعمل اکثر حیران کن ہوتا ہے! آنکھیں پھیل جانا، ہلکی سی ناک بہنا یا پانی پینے کی جلدی کرنا عام بات ہے۔ جبکہ ہم پاکستانی اور بھارتی لوگ جب تک کھانے میں مرچوں اور مسالوں کا ’تڑکا‘ نہ ہو، مزہ ہی نہیں آتا۔ ہمیں تو وہ کھانے بھی پھیکے لگتے ہیں جو کسی اور کے لیے کافی مسالے دار ہوتے ہیں۔
اسی دوران، پروگرام کا روحانی رنگ مزید گہرا ہو گیا جب نعت خواں شعیب نقشبندی کو مدعو کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ کی محبت سے سرشار نعت کی صدائیں روزانہ اس پروگرام کی فضاؤں میں گونجتی ہیں اور ہر دل میں عشقِ رسول ﷺ کی تپش مزید بڑھ جاتی ہے۔ درود و سلام کی برکتوں سے یہ محفل مزید نورانی ہوجاتی ہے، اور یوں یہ پروگرام محض ایک ٹرانسمیشن نہیں بلکہ سعادتوں کے حصول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
یہی تو رمضان کی خوبصورتی ہے، جہاں ذائقوں کی خوشبو، محبت بھری گفتگو، نعتوں کی برکتیں، اور درود و سلام کی گونج سب مل کر ایک روحانی ماحول پیدا کرتے ہیں۔ یہ مقدس لمحات ہمیں اپنے رب کے قریب کرتے ہیں، اور ہمیں ان نعمتوں کا احساس دلاتے ہیں جو رمضان کی صورت میں ہم پر نازل ہوتی ہیں۔
اللہ ہم سب کو رمضان کی ان ساعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے، برکتیں سمیٹنے اور اپنے دل کو حقیقی روشنی سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!