میری ٹائم کی وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد جہازوں کی فروخت کا اسکینڈل سامنے آگیا، پی این ایس سی کی جانب سے 2 آپریشنل تیل کے جہاز فروخت کر دیئے گئے۔
ذرائع کے مطابق لاہور جہاز یومیہ 27 ہزار500 ڈالرز پرعراقی بندرگاہ پر ٹھیکے پر تھا، جبکہ کوئٹہ جہاز پاکستانی ریفائنریز کے ٹھیکے پر تقریباً 12ہزار ڈالر یومیہ ٹھیکے پر تھا۔
کوئٹہ جہازکا متبادل طے شدہ کرائے سے بھی مہنگا ہائر کرنے پر مجبورکیا گیا، ریفائنریز کے لئے باہر سے چارٹر جہاز ’سوین لیک‘ 8 لاکھ ڈالر ماہانہ پر حاصل کیا گیا، جس سے تقریبا 2 لاکھ ڈالرزکا نقصان ہوا۔
53 سال بعد پاکستانی کارگو جہاز چٹاگانگ بندرگاہ پر لنگرانداز
شپنگ ذرائع کے مطابق جہاز آپریشنل اور منافع بخش تھے،اسکریپ کے بجائے شپنگ کمپنیز کی جانب سے خریدے گئے، دونوں جہازوں کی موجودہ فریٹ مارکیٹ کم ازکم 40 ہزار ڈالرز یومیہ ہے۔
ترجمان پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے مطابق دو جہازوں کی فروخت کا پروسیس جاری ہے، بورڈ کی منظوری سے فیصلہ ہوا، جہاز فائدہ مند نہیں تھے، اجازت ملتے ہی نئے جہاز خریدے جائیں گے۔
قبل ازیں سینئر سیاستدان سینیٹر فیصل واوڈا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کراچی پورٹ کی 40 ارب کی سرکاری قیمت کی زمین 5 ارب روپے میں دے گئی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ کراچی پورٹ کی 40 ارب کی سرکاری قیمت کی زمین 5 ارب روپے میں دے گئی اور کراچی پورٹ کی 500 ایکڑ کی زمین کی مارکیٹ ویلیو 60 ارب روپے سے زیادہ ہے۔