پاکستان پوسٹ میں خلاف ضابطہ 381 بھرتیوں کا انکشاف

0 minutes, 0 seconds Read

چیئرمین کمیٹی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ پاکستان پوسٹ میں خلاف قواعد بھرتی کیے گئے 381 افراد ابھی تک عہدوں پر بیٹھے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی ) کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہوا۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پوسٹل سروسز میں غیر قانونی بھرتیوں پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پوسٹل سروسز میں 381 افراد کو خلاف ضابطہ بھرتی کیا گیا تھا۔

سیکریٹری مواصلات نے اجلاس کو بتایا کہ اس حوالے سے وزیر اعظم کی ہدایت پر تحقیقات جاری ہے، اس کیس میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں ، وزارتِ خزانہ سے ان بھرتیوں کے حوالے سے قانونی معاونت نہیں لی گئی۔

پی ٹی آئی دور حکومت میں کرپشن کی تحقیقات، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بڑا فیصلہ

پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں این ڈی ایم اے اور وزارت مواصلات کی آڈٹ رپورٹس پرغور کیا گیا، پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک کی امدادی اشیاء شام اور ترکیہ کو بھجوانے کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ اے ڈی بی نے ٹینٹ اور کمبل خریدنے کیلئے گرانٹ دی تھی، لیکن این ڈی ایم اے نے سیلاب متاثرین کے ٹینٹ اور کمبل ترکیہ اور شام کو بھجوا دئیے۔

پبلک اکاؤنٹ کمیٹی؛ اسٹیل مل کی 54 ایکٹر زمین چارافراد کو دینے کا انکشاف

این ڈی ایم اے کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2022 میں پاکستان نے سیلاب کے نقصانات سے نمٹنے کیلئے تیس ارب ڈالر کی اپیل لانچ کی لیکن دنیا نے ہماری توقعات کے مطابق یقین دہانیاں نہیں کروائیں۔

این ڈی ایم اے نے فلڈ ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب مکمل کر لی ہے، کم سے کم دس ماہ قبل سیلاب سے متعلق پیش گوئی کی جا سکتی ہے، اس سے آنے والے سیلاب سے نقصانات 45 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔

پی ٹی آئی کے جنید اکبر بلامقابلہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی منتخب

آڈٹ حکام نے کہا کہ امدادی اشیاء کی خریداری پر سی ایس ڈی کو 12 کروڑ 48 لاکھ روپے کا سیلز ٹیکس ادا کیا گیا جبکہ قواعد کے تحت این ڈی ایم اے کو ریلیف اشیاء کی خریداری پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔

عمر ایوب نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے اکائونٹس کے معاملات بہت خراب ہیں۔ این ڈی ایم اے کا پرفارمنس آڈٹ کیا جائے۔

این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ ایف بی آر ایس آر او کے مطابق صرف درآمدی اشیاء کی سپلائی جی ایس ٹی سے مستثنی تھی، اس پر آڈٹ حکام نے پی اے سی کے سامنے ایس آر او پڑھ کر سنا دیا۔

پی اے سی نے معاملہ واپس محکمانہ اکائونٹس کمیٹی میں بھجوا دیا، پی اے سی میں بتایا گیا کہ پاکستان پوسٹ میں خلاف قواعد بھرتی کیے گئے 381 افراد ابھی تک عہدوں پر بیٹھے ہیں۔

وزارت مواصلات کے حکام کا کہنا تھا کہ بھرتیوں میں 4 خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، بھرتیوں کیلئے این او سی کا ایشو تھا اور ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی گئیں، خلاف قواعد بھرتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ اور محکمانہ انکوائری ہوئی۔

Similar Posts