رمضان میں ہوشربا مہنگائی کے ذمہ دار ہم خود ہیں، ہم چاہیں تومہنگائی کم ہوسکتی ہے لیکن کیسے؟ جانیئے!

0 minutes, 0 seconds Read

آج نیوز کی رمضان اسپیشل ٹرانسمیشن میں میزبان شہریار عاصم نے اشیائے خوردونوش کی مہنگائی پر گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ رمضان کے دوران یہ اشیاء اس قدر مہنگی کیوں ہو جاتی ہیں؟

پروگرام کی مہمان، موٹیویشنل اسپیکر، اینکر، ڈرامہ آرٹسٹ، اور مصنفہ بشریٰ اے خان نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ناظرین کو یہ سن کر حیرت ہو سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہم کسی بھی شے کے بغیر رہنے کا تصور نہیں کر سکتے، نہ ہی اس کا بائیکاٹ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

بشریٰ خان نے مزید کہا کہ ہمارے اندر اتحاد اور نظم و ضبط کی کمی ہے۔ اگر ہم کسی چیز کو اجتماعی طور پر ترک کر دیں، تو یقینی طور پر اس کا اثر مارکیٹ پر پڑے گا، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہم اپنی استطاعت کی بنیاد پر مہنگے داموں بھی خریداری جاری رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر کوئی چیز 100 روپے سے بڑھ کر 500 روپے کی ہو جائے اور پھر بھی خریدی جائے، تو قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ کیوں نہ جاری رہے؟

شہریار عاصم نے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے سوال کیا کہ دیگر ممالک میں جب کوئی تہوار آتا ہے تو اشیاء کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں، لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

بشریٰ اے خان نے اس سوال کے جواب میں شہریار عاصم ہی کے پروگرام ’ٹارگٹ‘ ہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہی کے ایک پروگرام کا جملہ ہے کہ ’ہم مسلمان تو ہیں، ہمیں محبت بھی بہت ہے لیکن ہم مسلمان بنتے نہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر دکانوں پر لکھا ہوتا ہے کہ ’کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے‘, مگر ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اللہ ہمیں ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان نیکیوں کا موسم ہے، مغفرت کا سیزن ہے، لیکن ہم اسے ناجائز منافع خوری کا سیزن بنا دیتے ہیں۔

گفتگو کے اختتام پر شہریار عاصم نے کہا کہ ہمیں تو اپنے کل کا پتہ نہیں کل کیا پل کا پتہ نہیں لیکن ہم زیادہ کمانے کی فکرمیں اپنی آخرت بھی گنوا بیٹھتے ہیں، کہتے ہیں ’سامان سو برس کا اورپل کی خبر نہیں۔‘ تو ہمیں اپنی آخرت کی فکر ہونی چاہیے۔

Similar Posts