ایران کی آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو 7 شرائط پیش

ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کے لیے 7 شرائط پیش کردی ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق ان شرائط پر عمل درآمد تک آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال نہیں کی جائے گی۔

ایرانی مطالبات میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اور دھمکیاں فوری طور پر بند کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران پر عائد پابندیاں اٹھانا شامل ہے۔

ایران نے اپنے منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے خطے میں ایران کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں روکنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جبکہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام میں بیرونی مداخلت نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ مذکورہ مطالبات پر عمل درآمد کے بعد ہی آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت کو مکمل طور پر معمول پر لانے کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔

اُدھر ایران نے امریکا کی جانب سے ناکہ بندی اور جارحانہ کارروائیاں ختم کرنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے کی مشروط پیشکش کردی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ پیر کو ہوگا، جبکہ معاہدے پر مسقط میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران دستخط کیے جائیں گے۔

مسعود پزشکیان کے مطابق اجلاس میں ان تمام ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملے کیے گئے تھے۔

ایرانی صدر نے بتایا کہ نئے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز ایرانی پانیوں سے داخل ہوں گے اور عمانی پانیوں سے باہر نکلیں گے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کی ناکہ بندی اور جارحیت کا خاتمہ ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت معمول پر لانے کے لیے متعلقہ ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

ایرانی صدر نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں اور ان کے معاملات کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ سے جوڑنا درست نہیں۔

مسعود پزشکیان نے خطے کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل بیٹھ کر مسائل حل کریں اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے۔

Related posts