4

ایئر فورس، آرمی ایئر ڈیفنس دفاع کیلئے مثالی کام کر رہے ہیں، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ایئر فورس اور آرمی ایئر ڈیفنس دفاع کے لیے مثالی کام کر رہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی ایئر ڈیفنس سینٹر کراچی کا دورہ کیا اور چینی ساختہ ایچ کیو 9 پی کی آرمی ایئر ڈیفنس میں شمولیتی تقریب میں شرکت کی۔ آرمی چیف کو کمانڈر ایئر ڈیفنس نے ہتھیاروں سے متعلق آگاہ کیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہائی ٹیک سسٹم کی شمولیت سے درپیش خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی جبکہ ایئر ڈیفنس مجموعی دفاعی نظام میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایئر فورس اور آرمی ایئر ڈیفنس دفاع کے لیے مثالی کام کر رہے ہیں جبکہ پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری خطے میں استحکام کا عنصر ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی قیادت میں پاک فوج نے روایتی جنگی صلاحیت میں اضافہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنگی صلاحیتوں میں اضافے پر خصوصی توجہ دی۔

پاکستان نے مختصر عرصے میں اپنی روایتی حربی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا۔ ایل وائی 80 ویپن سسٹم ہو یا فتح ون گائیڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم، وی ٹی 4 ٹینک ہو یا اے 100 راکٹ پاکستان خود انحصاری کے لیے کوشاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ روایتی حربی صلاحیت مضبوط دفاع کی ضمانت دشمن کے لیے خطرے کی علامت ہے جبکہ ایچ کیو 9 پی ویپن سسٹم 100 کلومیٹر تک اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکتا تھا۔ ایچ کیو 9 پی کو آرمی ایئر ڈیفنس میں شامل کیا گیا۔ ایچ کیو 9 پی سے پاکستان کا فضائی دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو گیا ہے۔

جہاز، کروز میزائل اور بی وی آر ہتھیاروں سمیت مختلف ٹارگٹس کو انگیج کرتا ہے جبکہ ایل وائی 80 ریڈی ٹو فائر جنگی جہاز ہےاور ایل وائی 80 ویپن سسٹم 12 مارچ 2017 کو پاک فوج میں شامل کیا گیا۔ ایل وائی 80 کروز میزائل اور یو اے ویز کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

40 کلو میٹر رینج کا ویپن سسٹم 50 ہزار فٹ کی بلندی پر ہدف کو نشانہ بناتا ہے جبکہ ایل وائی بیک وقت 6 ٹارگٹس کو انگیج کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ سسٹم میں کمانڈوہیکل، سرویلنس وہیکل، گائیڈنس وہیکل اور فائرنگ وہیکلز شامل ہیں جبکہ رجمنٹ فارمیشنز کی تمام مینورز کو مؤثر ایئر ڈیفنس فراہم کرتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اے 100 ایم ایل آر ایس 4 جنوری 2019 کو پاک فوج کا حصہ بنایا گیا اور اے 100 راکٹ پاکستانی سائنسدانوں نے خود تیار کیا۔ 100 کلومیٹر رینج کا یہ راکٹ دشمن کی جنگ کے لیے تیاری کو روک سکتا ہے۔

فتح ون گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ 7 جنوری 2021 کو کیا گیا اور فتح ون گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم پاکستان کا اپنا تیار کردہ زبردست اور کاری ہتھیار ہے۔

وی ٹی 4 ٹینک 12 اکتوبر 2021 کو پاک فوج میں کمیشن کیا گیا اور اس ٹینک کا شمار دور جدید کے بہترین ٹینکس میں ہوتا ہے۔ وی ٹی فور ٹینک اسٹرائیک فارمیشنز کا مہلک ترین ہتھیار ہے جبکہ اسٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی اور ایکسپشنل فائر پاور سے لیس ہے اور یہ ایڈوانس آرمر پروٹیکشن سے بھی لیس ہے۔

ملی میٹر گن سے لیس آٹو ٹرانسمیشن سسٹم، ڈیپ واٹر فورڈنگ آپریشن کا حامل ہے اور وی ٹی فور ٹینک دشمن کے لیے ہیبت کی علامت اور پاکستان کے مضبوط دفاع کی ضمانت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں