وفاقی وزیر صحت نے ایم ڈی کیٹ 2026 سے متعلق شکایات کا نوٹس لے لیا
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے سندھ میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 سے متعلق شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت صحت کو 15 روز میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت سندھ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) ایم ڈی کیٹ منعقد کرنے والی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر امتحان کے انعقاد سے متعلق شکایات کا جائزہ لے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے انعقاد میں شفافیت اور فیئر پلے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، سوشل میڈیا پر بھی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی مراکز کے نتائج، نمبرز، فیصد اور پاس ریٹ کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا، ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں زیادہ نمبر غیرمعمولی یا نمایاں فرق کا بھی جائزہ لیا جائے گا، حاضری شیٹس، سیٹنگ پلان، سینٹر ریکارڈ اور نتائج کا ڈیٹا انکوائری کا حصہ ہوگا۔
وزارت صحت نے بتایا کہ ایم ڈی کیٹ میں بے ضابطگی، غیر مجاز معاونت، جعل سازی، سوالات کے افشا اور انتظامی غفلت کی شکایات کا جائزہ لیا جائے گا، تکنیکی خرابی یا کسی بھی بے ضابطگی سے امتحان متاثر ہونے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق پی ایم ڈی سی امتحان کے انعقاد اور نتائج مرتب کرنے سے متعلق تمام متعلقہ ریکارڈ بھی فراہم کرے گا، ایم ڈی کیٹ میں غیر مجاز معاونت، جعل سازی اور سوالات کے افشا کی شکایات زیر جائزہ آئیں گی۔
وزیر صحت نے ایم ڈی کیٹ 2026 انکوائری رپورٹ 15 روز میں وزارت صحت کو پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
معاملہ کیسے سامنے آیا؟
سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے نتائج پر طلبہ اور والدین کی جانب سے تحفظات سامنے آنے کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بنا۔ سندھ میں رواں سال ایم ڈی کیٹ 20 ستمبر کو سِبا ٹیسٹنگ سروسز کے تحت منعقد ہوا جب کہ نتائج 28 ستمبر کو جاری کیے گئے۔ نتائج کے مطابق سندھ میں 33 ہزار سے زائد امیدواروں نے امتحان دیا جب کہ 16 ہزار سے زائد امیدوار ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترے۔
نتائج اور امتحانی عمل سے متعلق شکایات کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی عادل عسکری نے 29 ستمبر کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھا تھا۔ عادل عسکری نے خط میں ایم ڈی کیٹ 2026 میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ انکوائری اور مکمل امتحانی عمل کا آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے امتحانی مراکز کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کا جائزہ لینے، پرچوں کی چیکنگ اور اسکیننگ کے عمل کی جانچ، اصل جوابی کاپیوں اور او ایم آر شیٹس کے نمونوں کی آزادانہ دوبارہ جانچ اور طلبہ کی شکایات و مبینہ تضادات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
ایم کیو ایم رکن سندھ اسمبلی نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ مکمل امتحانی عمل کا آڈٹ کرکے یہ دیکھا جائے کہ امتحان مقررہ طریقہ کار کے مطابق منعقد ہوا یا نہیں۔
دریں اثنا سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے نتائج سے متعلق شکایات پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے بھی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے امتحانی مراکز اور نتائج مرتب کرنے کے عمل کا جائزہ لینے کا کہا ہے۔
حکام کی جانب سے جاری انکوائری کے بعد ہی ایم ڈی کیٹ 2026 کے انعقاد یا نتائج میں کسی بے ضابطگی سے متعلق حتمی صورت حال سامنے آئے گی۔