افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ

0 minutes, 0 seconds Read

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت کاؤنٹر ٹیرراِزم کمیٹی کے اجلاس میں بہتر مانیٹرنگ یقینی بنانے کے لئے دھماکہ خیز مواد کو وفاقی سبجیکٹ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

ہفتے کو وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں صوبوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد بڑھانے پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے۔ صوبوں میں صوبائی انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹرز کے قیام پر کام جاری ہے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف سی کی تنظیم نو کے بعد اسے نیشنل ریزرو پولیس میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

اجلاس میں بہترمانیٹرنگ یقینی بنانے کے لئے دھماکہ خیز مواد کو وفاقی سبجیکٹ بنانے پراتفاق کیا گیا اور وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کے مسئلے کو موثر طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ بھی ہوا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ غیرملکی شہریوں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سیاسی وعسکری قیادت اور سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں، صوبوں کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ صوبائی سطح پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو مکمل فعال کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا ،بلوچستان کو ہرممکن مدد فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ وفاقی سطح پرایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو مکمل فعال کیا جائے گا۔

Similar Posts