چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ عید سے قبل کراچی والوں کو سوگ میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈمپر نان کسٹم پیڈ اور اسمگل شدہ ہیں، جنہیں مافیا طرز پر چلایا جاتا ہے اور ایک مخصوص سسٹم انہیں سپورٹ کر رہا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران کراچی کی سڑکیں شہریوں کے خون سے رنگی رہیں، درجنوں نوجوان ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے گئے اور مسلسل ڈمپر کی ٹکر سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شہریوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران، ریاست، وزیراعظم اور صدر بتائیں کہ ہم کہاں جائیں؟ ایم کیو ایم حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کرنے جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں لیاری گینگ وار کی طرح اغوا برائے تاوان کی وارداتیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں، جس پر حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔
حکومت سندھ کا ردعمل
ایم کیو ایم کے الزامات پر حکومت سندھ کی ترجمان سیدہ تحسین عابدی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ماضی میں مافیا کی سرپرستی کرتے رہے، وہ آج مافیا کے خلاف بات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے نوجوانوں کو ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور دہشت گردی میں دھکیلنے والے آج حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم پر الزام عائد کیا کہ ڈومیسائل کے نام پر نوکریاں بیچنے کا دھندہ بھی اسی جماعت نے شروع کیا تھا۔
تحسین عابدی نے مزید کہا کہ کراچی میں اسلحہ کلچر متعارف کرانے والے آج امن کے علمبردار بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے دور میں شہر میں خوف اور دہشت کی فضا قائم تھی۔
ترجمان حکومت سندھ نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ فیکٹری سانحہ، ڈاکٹرز، انجینئرز اور طلبہ کے قاتل آج مظلومیت کا لبادہ اوڑھ رہے ہیں، لیکن قوم سب جانتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام ایم کیو ایم کی حقیقت جان چکے ہیں اور لسانیت کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت سندھ عوامی خدمت میں مصروف ہے اور ترقیاتی کام زمین پر نظر آ رہے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم صرف الزامات لگا رہی ہے۔