قتل کیس کے بعد جاپان میں امریکی فوجیوں پر کرفیو عائد، شراب نوشی پر مکمل پابندی
جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں ایک خاتون کے مبینہ قتل کے الزام میں امریکی میرین کی گرفتاری کے بعد جاپان اور امریکا کے درمیان حساس معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ واقعے کے بعد اوکیناوا میں تعینات امریکی فوجیوں کے لیے سخت نظم و ضبط کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فوجیوں پر ایک ماہ کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ انہیں شراب نوشی سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات فوجیوں کی نظم و ضبط سے متعلق تربیت کے دوران کیے گئے ہیں۔
20 سالہ امریکی میرین لانس کارپورل ڈیون جیکب بالارڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے ہفتے کے روز جاپان کے جنوب میں واقع صوبے اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ مقامی خاتون انا یاگی کو قتل کیا اور ان کا بٹوا اور بیگ بھی لے گئے۔ پولیس کے مطابق بالارڈ نے الزامات سے انکار کیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ انا یاگی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔ امریکی فوجی اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ملزم نے مبینہ طور پر خاتون کی گردن پر دباؤ ڈالا تھا۔
ہوٹل کے عملے نے ہفتے کی صبح خاتون کو اس وقت بے ہوش حالت میں پایا جب وہ مقررہ وقت پر کمرے سے باہر نہیں آئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے سی سی ٹی وی میں خاتون کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہونے والے شخص کی تلاش کے لیے تقریباً 200 اہلکار تعینات کیے تھے۔
امریکی فوج کی جانب سے اوکیناوا میں تمام فوجی سرگرمیاں 48 گھنٹے کے لیے روکنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل بینجمن واٹسن نے کہا کہ اس دوران فوجی اہلکاروں کو معیار اور نظم و ضبط سے متعلق تربیت دی جائے گی۔
واٹسن نے کہا کہ جاپان کے مقامی لوگوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کا ہر رابطہ اعتماد کو مضبوط یا کمزور کرتا ہے، جبکہ یہ اعتماد امریکا اور جاپان کے اتحاد اور خطے کی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
جاپانی وزیراعظم سانے تاکائیچی نے اس قتل کو انتہائی سفاک اور سنگین قرار دیتے ہوئے امریکا کے سامنے سخت احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔
اس واقعے کے بعد ناہا اور ٹوکیو میں احتجاج بھی ہوا ہے۔ اوکیناوا کے گورنر گینتا کوجا بدھ کو وزیراعظم تاکائیچی سے ملاقات کرکے واقعے کے ردعمل اور آئندہ اقدامات پر بات کریں گے۔

اوکیناوا میں امریکی فوج کی موجودگی کئی دہائیوں سے مقامی آبادی میں بے چینی کا باعث رہی ہے۔ جاپان میں امریکی فوج کا بیرون ملک سب سے بڑا دستہ موجود ہے اور جاپان میں تعینات تقریباً 18 ہزار امریکی میرینز میں سے زیادہ تر اوکیناوا میں موجود ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے 1972 تک اوکیناوا امریکی انتظام میں رہا تھا۔
امریکی فوج کی موجودگی کے حوالے سے مقامی لوگوں کی شکایات میں طیاروں کا شور، حادثات اور بعض فوجی اہلکاروں کے مبینہ جرائم شامل رہے ہیں۔ 1995 میں تین امریکی فوجیوں کی جانب سے 12 سالہ اوکیناوا کی لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔
حالیہ قتل کا واقعہ وزیراعظم تاکائیچی کی اس کوشش کو بھی متاثر کر سکتا ہے جس کے تحت مصروف فوٹینما ایئر بیس سے بعض امریکی میرینز کو ہینوکو کے نسبتاً دور علاقے میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ تاہم مخالفین کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوجیوں کو اوکیناوا سے ہی منتقل کیا جائے۔
اوکیناوا کی جغرافیائی اہمیت بھی اسے امریکا اور جاپان کے لیے اہم بناتی ہے۔ اس کا قریبی ترین حصہ تائیوان سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ہے، اور ٹوکیو و واشنگٹن اسے چین کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی روک تھام کے لیے ایک اہم مقام سمجھتے ہیں۔