پھانسی سے چند گھنٹے پہلے ایرانی نوجوان نے فون پر اپنی ساتھی قیدی سے شادی کرلی
ایران میں احتجاج کے ایک مقدمے میں سزائے موت پانے والے 25 سالہ نوجوان علی رضا سپاہی نے پھانسی سے چند گھنٹے پہلے جیل میں قید اپنی منگیتر سے فون پر نکاح کیا۔ مگر یہ رشتہ قائم ہونے کے اگلے ہی روز نوجوان کی پھانسی کی سزا پر عمل درامد کردیا گیا۔
العربیہ نیوز کے مطابق علی رضا سپاہی کو ایران میں جنوری کے احتجاج کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق وہ اصفہان کے علیخانی اسکوائر میں 8 جنوری کو ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمے میں ملوث تھا، جہاں چار پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔
5 اکتوبر کی صبح علی رضا سپاہی کو اصفہان کی مرکزی جیل میں ایک اور 21 سالہ نوجوان علی رضا رئیسی کے ساتھ پھانسی دے دی گئی۔ ایرانی عدلیہ کی نیوز ایجنسی میزان کے مطابق دونوں کو ایک مسلح گروپ سے وابستگی اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات میں سزا سنائی گئی تھی۔
لیکن اس پھانسی سے چند گھنٹے پہلے علی رضا نے اپنی 22 سالہ منگیتر مہشاد کاشانی سے فون پر نکاح کیا۔ مہشاد بھی احتجاج کے سلسلے میں گرفتار ہو کر اصفہان کی ایک دوسری جیل میں قید تھی۔
حقوق انسانی کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق شادی کا یہ عمل دونوں کو آمنے سامنے بٹھا کر نہیں بلکہ ان کے وکیل کی جانب سے ٹیلی فون پر کرایا گیا۔ وکیل نے دونوں خاندانوں کی اجازت سے فون پر نکاح کے کلمات ادا کرائے، جس میں قرآن مجید، شکر کا ایک ٹکڑا اور سرخ گلاب حق مہر مقرر کیے گئے۔
جیل حکام نے جوڑے کو آخری بار بالمشافہ ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ عبدالرحمن بورومند سینٹر کی شریک بانی رویا بورومند کے مطابق وکلا کو امید تھی کہ شاید شادی کی وجہ سے پھانسی مؤخر ہو جائے، تاہم حکام نے مہشاد کو قیدی کی رشتہ دار تسلیم نہ کرتے ہوئے دونوں کی جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
رویا بورومند کے مطابق یہ نکاح قانونی طور پر ہوا، لیکن دونوں افراد ایک ہی جگہ موجود نہیں تھے، اسی لیے اسے غائبانہ شادی قرار دیا گیا۔
علی رضا سپاہی کی گرفتاری بھی احتجاج کے چند ہی روز بعد 10 جنوری کو ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ اس کی والدہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، جو اب بھی جیل میں ہیں اور پانچ سال کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
امریکی ادارے عبدالرحمن بورومند سینٹر کے مطابق علی رضا کے مقدمے میں سنگین قانونی خامیاں موجود تھیں۔ حقوق انسانی کے اس ادارے کا کہنا ہے کہ دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کو نظرانداز کیا گیا، جن میں ایسی ویڈیو بھی شامل تھی جس کے مطابق واقعے کے وقت علی رضا جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھا۔
اس مقدمے میں تقریباً ایک درجن افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ان میں سے دو افراد کو 19 جولائی کو جیل میں پھانسی دی گئی، جبکہ علی رضا سپاہی کو 28 جولائی کو علیخانی اسکوائر میں سرعام پھانسی دی جانی تھی۔
مگر اس وقت ایک غیر متوقع واقعے نے اس کی پھانسی روک دی۔ اقوام متحدہ کی ایران میں انسانی حقوق کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو کے مطابق پھانسی سے کچھ دیر پہلے علی رضا کو دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ کچھ دن بعد اسے اسپتال سے فارغ کرکے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔
مائی ساتو کے مطابق اس کے بعد علی رضا ہر روز پھانسی کے خوف میں رہا، یہاں تک کہ 5 اکتوبر کو وہ وقت آگیا جس کا اسے کئی ماہ سے خدشہ تھا۔
ایران ہیومن رائٹس کے مطابق جنوری میں ہونے والے احتجاج کے بعد اب تک 34 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 8 اور 9 جنوری کو احتجاج اپنے عروج پر پہنچا تھا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور انٹرنیٹ بھی بند کردیا گیا۔
پھانسی کے بعد بھی خاندان کی مشکلات
علی رضا سیباہی کو بالآخر 5 اکتوبر کی صبح اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان کے ساتھ علی رضا رئیسی کو بھی سزائے موت دی گئی۔
سیباہی کے خاندان کے لیے مشکلات ان کی پھانسی کے بعد بھی ختم نہیں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق حکام نے ان کی میت اصفہان میں خاندان کے حوالے کرنے کے بجائے کاشان منتقل کردی، جو اصفہان سے تقریباً 200 کلومیٹر دور واقع ہے۔
یوں علی رضا سپاہی کی زندگی کے آخری دنوں میں اپنی ساتھی قیدی سے شادی کی خواہش تو پوری ہوئی، لیکن دونوں کو ایک دوسرے سے آمنے سامنے ملنے کا موقع نہ مل سکا۔