پی ٹی آئی چاہتی ہے 2014 والا ماحول بنے، ڈی چوک پر کپڑے لٹکے ہوں، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسا 2014 میں تھا، جب ڈی چوک میں احتجاج کے دوران کپڑے لٹکائے گئے تھے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا خاتمہ کرے اور صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے، پولیس اور فوج کے جوان شہید کیے جا رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے خاموش ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے کے لیے 800 ارب روپے دیے جا چکے ہیں، تاہم صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو مؤثر طور پر مضبوط نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کو جواب دینے کے بجائے خاموش ہے اور ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولتی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنی چاہئیں۔

شہباز شریف نے سیاسی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ہے اور ایک گروہ لانگ مارچ کے ذریعے وفاقی دارالحکومت آنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ ملک دشمنی کی کوئی اور حرکت نہیں ہو سکتی۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے اور پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال آئی ایم ایف سے اگلی قسط بھی ملنے کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ان کی مثبت گفتگو ہوئی، جس میں پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کیا گیا۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے ان کوششوں کو پاکستان میں تبدیلی کی علامت قرار دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر ملک کے لیے کام کیا ہے اور عالمی رہنماؤں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جن عالمی رہنماؤں سے ان کی ملاقات ہوئی، انہوں نے پاکستانی سفارت کاری کی تعریف کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک پر 80 سال کا بوجھ راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا، تاہم مسلسل محنت اور دن رات کوششوں سے منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

خطے کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے آبنائے ہرمز میں حالات دوبارہ خراب ہو گئے ہیں، جبکہ آبنائے باب المندب میں بھی خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں اور ان کوششوں میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد خطے میں امن قائم کرنا ہے اور ایران کے ساتھ پاکستان کے خلوص اور تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قبول نہیں کرے گا۔

شہباز شریف نے سعودی عرب کو پاکستان کا برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی طرح سعودی عرب بھی پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ خطے کے تنازعات کو امن کے ذریعے حل کیا جائے۔

وزیراعظم نے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ٹی پارک کے منصوبے کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئی ٹی پارک کے منصوبوں کو ملک بھر میں پھیلائے گی تاکہ ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔

Related posts