سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گلشن معمار سے چار لڑکیوں کی گمشدگی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ایسٹ، ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی اور تفتیشی افسر کو فوری طور پر طلب کر لیا۔ عدالت نے آئی جی سندھ سے یہ سوال کیا کہ لڑکیوں کی بازیابی کے لئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت میں بیان دیا کہ 2017 میں اس کی تین بیٹیوں اور نواسی کو اغوا کر لیا گیا تھا، اور اب تک ان کی بازیابی کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ اس کے بیٹے اور داماد پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
آئی جی سندھ پولیس عدالت کے طلب کرنے پر پیش ہوئے، جبکہ ڈی آئی جی، ایس ایس پی انوسٹیگیشن، ایس ایچ او اور تفتیشی افسر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی نے بھی عدالت میں پیش ہو کر پولیس کی پیش رفت رپورٹ پیش کی۔
جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ایک آدمی کی چار بیٹیاں کئی سالوں سے لاپتہ ہیں، اور یہ کیس انتہائی تشویشناک ہے۔ عدالت نے کیس کو چیف جسٹس آف پاکستان کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا اور آئی جی سندھ سے کہا کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اس کیس میں پیش ہوں۔
پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے بتایا کہ ایک بچی نے کالا پتھر کھا لیا تھا، وہ انتقال کر چکی ہے، جبکہ دوسری بچی واپس آئی اور اس نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کر لی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو بچیوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور پولیس ٹیم پنجاب بھی گئی تھی۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ تیسری لڑکی ذکیہ کو بازیاب کرالیا گیا ہے اور اسے مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ ہم اس کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں، جبکہ پراسکیوٹر جنرل سندھ نے کہا کہ ہمیں دو ماہ کی مہلت دی جائے۔ جس پر جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اتنا حساس کیس ہے اور آپ کو دو ماہ کا وقت دیں؟ یہ انتہا ہے کہ ایک آدمی کی بچیاں اغواء ہوئیں اور پھر انہی پر اور داماد کے خلاف مقدمات درج کرلیے،ان متاثرین کو جیلوں میں قید کیا گیا ہے، یہ ہو کیا رہا ہے؟
جسٹس عرفان سعادت نے اس کیس کی حساسیت کے پیش نظر پولیس کو 15 دن کی مہلت دی تاکہ تفتیش مکمل کی جا سکے اور کیس کی تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس کیس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور اچھے افسران سے تفتیش کرائی جائے۔