دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں دو پالیسیاں نہیں چل سکتیں: وفاقی وزرا
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے تحت کیا گیا ہے، جبکہ ایک ہی ملک میں دہشتگردی کے خلاف دو پالیسیاں نہیں چل سکتیں۔
وفاقی وزرا نے منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ انسداد دہشتگردی کی مشترکہ پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔
غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو مشترکہ بریفنگ دیتے ہوئے دونوں وزرا نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشتگردی جیسے قومی مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے اور ملک میں اس معاملے پر دو مختلف پالیسیاں نہیں چل سکتیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی۔
ان کے مطابق آئین میں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے مخصوص طریقۂ کار موجود ہے اور وزیراعظم کے مشورے پر صدر ہنگامی اقدامات کر سکتے ہیں۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ یہ دفعات کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ ریاست کو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے قانونی راستہ فراہم کرنے کی غرض سے شامل کی گئی تھیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس جنگ میں شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔
ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور مختلف سرکاری اداروں کی رپورٹس ایمرجنسی کے فیصلے میں اہم عوامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، جس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے دہشتگردی کے واقعات کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشتگردی کے 2911 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ بعد کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8600 ہوگئی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ قریباً 200 فیصد بنتا ہے۔
تاہم، بریفنگ میں اس تقابل کے لیے استعمال کیے گئے دونوں ادوار کی مکمل مدت اور اعداد و شمار کی تفصیلی درجہ بندی واضح نہیں کی گئی۔ وزیر قانون نے کہا کہ یہ معلومات مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے وفاقی حکومت اور وزیراعظم آفس کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس، صوبے میں تعینات مسلح افواج، وفاقی اداروں اور کسٹمز حکام کو دہشتگرد حملوں کا سامنا رہا ہے، جبکہ علما اور عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔ ان کے بقول، دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے محض کارروائیاں کافی نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی اور معلومات کے تبادلے کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئین کے تحت اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کام کرتی ہیں، تاہم داخلی بدامنی اور دہشتگردی جیسے مسائل پر مشترکہ کوششیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے امریکا سمیت دیگر وفاقی نظاموں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی داخلی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور ریاستی حکومتیں تعاون کرتی ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ اختلافات دور کرنے کے لیے سیاسی سطح پر بھی کوششیں کیں۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے شرکت کی، جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے مذاکرات میں سہولت فراہم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران متعدد امور پر پیش رفت ہوئی اور بعض معاملات حل بھی ہوئے، تاہم اختلافات اور دیگر وجوہات کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی جیسے اقدامات حکومت کی پہلی ترجیح نہیں ہوتے اور وفاقی حکومت نے پہلے بھی سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق اگر مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہوتا تو ماضی میں بھی ایسے اقدامات کیے جا سکتے تھے، لیکن موجودہ فیصلے کی بنیادی وجہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہے۔
وزیر قانون نے زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں سیاسی ترجیحات کے بجائے عوام کے تحفظ کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بریفنگ میں کہا کہ وفاقی حکومت کا مقصد پی ٹی آئی یا خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف سیاسی کارروائی کرنا نہیں تھا، بلکہ دہشتگردی کے خلاف ایک متفقہ قومی حکمت عملی تشکیل دینا تھا۔
ان کے مطابق وفاق نے پی ٹی آئی کے سیاسی مارچ یا دیگر سیاسی مطالبات پر پابندی لگانے کی کوشش نہیں کی، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر اختلافی پالیسی اختیار کرنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت سفارتی سطح پر افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے اور دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔
ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا افغانستان سے متعلق مؤقف وفاقی حکومت سے مختلف رہا، جس کے باعث دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بعد میں اسے مسترد کر دیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں قومی ایکشن پلان موجود ہے اور دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی اپیکس کمیٹیاں بھی قائم ہیں۔
ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ان اجلاسوں کے انعقاد اور مربوط حکمت عملی پر عمل درآمد میں عدم تعاون نے وفاق اور صوبے کے درمیان خلیج پیدا کی۔
عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے بعض علاقوں، بالخصوص جنوبی اضلاع میں دہشتگردوں کے اثر و رسوخ سے متعلق اطلاعات موجود ہیں۔
انہوں نے صوبے میں سیاست، دہشتگردی اور جرائم کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ معدنیات، لکڑی، تمباکو، سونے اور قیمتی پتھروں کی تجارت سے متعلق بعض غیر قانونی سرگرمیوں اور سرحد پار اسمگلنگ کے ذریعے دہشتگردوں کو مبینہ طور پر مالی یا دیگر سہولتیں ملتی رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات اور ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2025 کے دوران دہشتگردی کے 3774 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ستمبر 2026 تک 2857 واقعات سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں ان واقعات کے نتیجے میں 3512 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2026 میں ستمبر تک ہلاکتوں کی تعداد 2775 رہی۔
عطا اللہ تارڑ نے مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے دوران دہشتگردی سے متعلق ہلاکتوں میں اضافے اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں 168 فیصد اضافے کا بھی دعویٰ کیا۔ تاہم، انہوں نے ان اعداد و شمار کی تفصیلی بنیاد اور مختلف ادوار کے تقابل کی وضاحت نہیں کی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صف اول پر ہے اور اس کے اہلکار مسلسل جانیں قربان کر رہے ہیں، لیکن پولیس کو جدید آلات، مناسب تربیت اور ضروری وسائل فراہم کرنے پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ڈی ایس پی شنواری سمیت پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت 2010 سے اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ ان وسائل کے باوجود صوبے میں محکمہ انسداد دہشتگردی کو مضبوط بنانے، سیف سٹی منصوبوں کے تحت نگرانی کے کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے اور پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کا مؤثر نظام بھی دہشتگردی کی تحقیقات میں مدد دے سکتا ہے، کیونکہ اس سے مشتبہ گاڑیوں اور دھماکوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگانے میں آسانی ہوتی ہے۔
وزیر اطلاعات نے صوبے میں حکمرانی، تعلیم، صحت اور بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت کوہاٹ جاتے ہوئے ایک پیٹرول پمپ پر گاڑیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کا ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ گزشتہ ساڑھے 13 برسوں میں اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق صوبے کے عوام دہشتگردی سے نجات چاہتے ہیں، کیونکہ بدامنی نے ان کی روزمرہ زندگی، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کوہاٹ میں دہشتگردی کے ایک واقعے کے بعد زخمیوں اور شہدا کے اہل خانہ سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان مشکلات کے باوجود دہشتگردی کے خاتمے کے خواہش مند ہیں۔
انہوں نے طالبان کے خواتین کو تعلیم سے محروم رکھنے کے نظریے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ مؤقف حقیقی اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ان کے مطابق دہشتگردی کا مسئلہ صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق خواتین کی تعلیم، بنیادی حقوق، معاشی سرگرمیوں اور معاشرے میں انتہا پسندانہ نظریات کے اثرات سے بھی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج کے بارے میں صوبائی حکومت کے نمائندوں کے بیانات کے باوجود بڑے پیمانے پر احتجاج نہیں دیکھا۔
انہوں نے اسے صوبائی حکومت کے مؤقف سے عوامی عدم اتفاق قرار دیا، تاہم عوامی ردعمل کے بارے میں ان کا یہ بیان وفاقی وزیر کا سیاسی مؤقف ہے اور بریفنگ میں اس کی تائید کے لیے کوئی آزادانہ سروے یا جامع شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے ایک نیا مشاورتی و ترقیاتی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا، جسے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں چیئرمین، وائس چیئرمین، ارکان اور ترجمان شامل ہوں گے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ یحییٰ اخونزادہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی حیثیت سے ایڈمنسٹریٹر کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ نئے ڈھانچے میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسداد منشیات، قانونی امور، قبائلی معاملات اور انسانی حقوق سے متعلق شعبوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئی کونسل کی تشکیل میں قبائلی اور علاقائی توازن کے ساتھ صنفی نمائندگی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
ان کے مطابق اس میں سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار افراد شامل کیے گئے ہیں، جن میں سابق چیئرمین وفاقی بورڈ آف ریونیو، سابق سیکریٹری خزانہ پنجاب، سپریم کورٹ کے وکیل اور سابق ایڈووکیٹ جنرل امیر جاوید، انسداد دہشتگردی کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر سید امیر عبداللہ اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر خان شامل ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کا تعلق دہشتگردی سے متاثرہ خاندان سے ہے اور وہ اس مسئلے پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق نئے انتظامی ڈھانچے کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا، دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا اور عوام کو بنیادی خدمات کی بہتر فراہمی یقینی بنانا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے خواہش مند ہیں، جبکہ وفاقی حکومت آئین کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس مقصد کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔