ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بندروں کی ایک نسل ”بونوبو“ (Bonobos) کی آواز میں بھی انسانی زبان کی طرح کمپوزیشنلٹی یعنی مختلف آوازوں کے مجموعے سے معنی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ تحقیق، جو جریدے ”سائنس“ میں شائع ہوئی، اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ بونوبو، جو انسانوں کے قریبی ترین رشتہ دار ہیں، اپنے بات چیت کے طریقے میں انسانی زبان کی طرح کمپوزیشنلٹی کا استعمال کرتے ہیں۔
بونو بو لغت
تحقیق کے دوران بونو بو کی آوازوں کو ان کے قدرتی ماحول میں تفصیل سے مطالعہ کیا گیا، جس کے بعد بونو بو کی تمام آوازوں اور ان کے مجموعوں کے معانی کو واضح کرنے کے لیے ایک لغت تیار کی گئی۔ اس لغت میں بونو بو کی آوازوں کو مختلف حالات، جیسے کھانا کھانا، سفر کرنا یا خوف کا اظہار کرنے کے مطابق تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
کمپوزیشنلٹی کی پہچان
تحقیق کے دوسرے حصے میں، بونو بو کی آوازوں کے مجموعوں کو کمپوزیشنل سمجھنے کے لیے ایک نیا طریقہ استعمال کیا گیا۔ اس میں یہ پایا گیا کہ بونو بو کے کئی آوازوں کے مجموعے ایسے ہیں جن کے معانی ان کی انفرادی آوازوں کے مجموعے سے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کمپوزیشنلٹی کی ایک واضح علامت ہے، اور بعض آوازوں کے مجموعوں میں انسانی زبان کے پیچیدہ کمپوزیشنل ڈھانچوں کی مشابہت بھی دیکھنے کو ملی۔
زبان کی ارتقاء میں اہمیت
یہ دریافت زبان کی ارتقاء کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ اگر بونو بو جیسے جانور اپنی آوازوں کو کمپوزیشنل طریقے سے استعمال کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مشترکہ آبا و اجداد میں بھی یہ صلاحیت موجود تھی۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ کمپوزیشنلٹی کا یہ عمل انسانوں سے کہیں پہلے موجود تھا اور یہ انسانی زبان کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیقی نتائج کا اثر
یہ تحقیق اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کمپوزیشنلٹی صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ دیگر جانوروں میں بھی موجود ہے۔ اس سے ہمیں زبان کی نشوونما اور ارتقاء کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔