پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے ہاسٹلز میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران درجنوں غیرقانونی مقیم افراد کو ہاسٹلز سے نکال کر ان کے سامان کو قبضے میں لے لیا گیا۔
اس آپریشن میں لڑکوں کے 17 اور لڑکیوں کے 11 ہاسٹلز پر چھاپے مارے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے تمام ہاسٹلز کو 8 اپریل تک سیل کر دیا جائے گا اور اس دوران غیر الاٹڈ طالب علموں کا داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
یہ آپریشن گزشتہ 20 سالوں میں پہلی مرتبہ ہاسٹلز میں کیا گیا، جس میں طلبا تنظیموں کے کارکنوں نے مختلف کمروں پر قبضہ کر رکھا تھا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ہاسٹلز میں 8 ہزار طلبا و طالبات کی گنجائش ہے اور 8 اپریل سے صرف الاٹ ہونے والے طلبا ہی ہاسٹلز میں داخل ہو سکیں گے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ بغیر الاٹمنٹ کے ہاسٹلز میں داخل ہونے والے طالب علموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔