کسی وکیل کی ضرورت نہیں، تنخواہ دار پاکستانی گھر بیٹھے آسانی سے ٹیکس فائل کرسکیں گے، وزیر خزانہ

0 minutes, 0 seconds Read

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے، اب تمام تنخواہ دار پاکستانی شہری بغیر کسی وکیل یا مشیر کے اپنے گھر سے ہی ٹیکس فائل کرسکیں گے۔

ہفتے کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس امور میں سادہ اور خودکار نظام متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو سہولت ہو اور انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تنخواہ دار طبقے کو اکثر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ فارم میں ”نان ایپلی کیبل“ لکھ دیں، حالانکہ بغیر کسی ٹیکس ایڈوائزر کے ایسا کرنا درست نہیں۔‘

انہوں نے وکلا اور ٹیکس مشیروں سے کہا کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں، تاکہ عوام گمراہ نہ ہوں۔

ٹیکس نظام میں شفافیت لانے پر زور

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت کے لیے ڈیجیٹل سسٹمز کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور ٹیکس کلیکشن میں پائیداری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک بار ٹیکس اکٹھا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، ہمیں نظام کو دیرپا اور مستحکم بنانا ہے۔

نجکاری کا عمل جاری، پی آئی اے اور دیگر ادارے شامل

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے 24 سرکاری کاروباری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کر دیے ہیں، جن میں پی آئی اے بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارے خزانے پر بوجھ بن چکے تھے، اب ان کی نجکاری سے معیشت کو ریلیف ملے گا۔ پی آئی اے کی نجکاری کا دوسرا مرحلہ امید ہے کہ کامیاب ہوگا، خاص طور پر اب جب کہ یورپی روٹس بھی بحال ہو چکے ہیں۔ روزویلٹ ہوٹل کے حوالے سے بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔

شرح سود میں نمایاں کمی، سرمایہ کاری کا ماحول بہتر

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر آدھی رہ گئی ہے، جس سے کاروباری طبقے کو فائدہ پہنچا ہے، میرے خیال میں شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جون کے آخر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر ہو جائیں گے، اس وقت ایل سی کھولنے اور کمپنیوں کو منافع باہر بھجوانے میں کوئی مشکلات نہیں ہیں، اندرونی محاذ پر افراط زر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس میں بہتری حکومت کا دعویٰ نہیں بلکہ ایک آزادانہ سروے کا نتیجہ ہے، اگر مقامی سرمایہ کار سرمایہ کاری کریں گے تو معیشت مزید بہتر ہوگی۔

عیدالفطر کے دوران 872 ارب روپے کی خریداری

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حالیہ عیدالفطر پر ملکی معیشت میں نمایاں اقتصادی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ ایک سروے کے مطابق اس سال عید پر 872 ارب روپے کی خریداری ہوئی، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 820 ارب روپے تھی۔

Similar Posts