وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب

وفاقی دفتر خزانہ (ایف ٹی او) اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر  منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق غیر قانونی طریقے سے ایف ٹی او سے  اسٹامپ پیپرز جاری کروا کر اسٹامپ پیپر فیس ،کورٹ فیس اور فارن بلز خزانے میں جمع نہ کرانے کا انکشاف  ہوا ہے۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے میگا کرپشن اسکینڈل سامنے آنے پر ایف ٹی او میں تعینات سینئر آڈیٹر عادل مقبول سمیت71افسران و اہلکاروں سمیت اسٹامپ واینڈرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔

یہ مقدمہ دفعات 109، 409، 420، 467، 471 پی پی سی اور 5(2)47 پی سی اے 1947 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ایف  آئی اے کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل افضل خان نیازی کی سربراہی میں رات گئے ملزمان کی گرفتاریوں کےلیے کریک ڈاؤن  کیا گیا اور اس دوران 20 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جب کہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے متعدد افسران و اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے ایف ٹی او آفس اسلام آباد سے جعلی/بوگس لائسنس جمع کرا کے اسٹامپ پیپرز حاصل کیے۔ جعلی لائسنسوں پر 2,638 بوگس TR-32 چلان جاری کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو 29 کروڑ 64 لاکھ 98 ہزار روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔

ذرائع کے مطابق ایف ٹی او کے 71 افسران و اہلکاروں و اسٹامپ وینڈرز کے خلاف مقدمہ تھانہ  آبپارہ کے مقدمہ نمبر 527/2025 کی ریکارڈ وصولی پر انکوائری نمبر  368/2025مکمل ہونے پر درج کیاگیا   ہے۔ انکوائری مکمل ہونے و ثبوت سامنے آنے پر مقدمہ اندراج کی منظوری ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری نے دی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق 10 سالہ فرانزک آڈٹ کے بعد اصل نقصان کا تعین  کیا جائے گا۔

اے ڈی سی آر امتیاز جنجوعہ،سپرنٹنڈنٹ محمد ارشد  سمیت ایف ٹی او اور ڈی آر اے  برانچ کے دیگر افسران کے کردار کا تعین  تفتیش میں ہوگا ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد  افضل خان نیازی کی نگرانی میں  ایس ایچ او شمس خان گوندل و ٹیم تفتیش میں مصروف  ہے۔

Similar Posts