اقوامِ متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 2 نہتے فلسطینیوں کی ہلاکت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے کے دفتر برائے انسانی حقوق نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دونوں افراد کی شہادت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ بظاہر قانون سے باہر قتل کے زمرے میں آتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی بریفنگ کے دوران ترجمان جیریمی لارنس نے کہا کہ وہ جمعرات کو جنین میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے ہاتھوں دو فلسطینی مردوں کے سرِعام قتل پر صدمے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اور ایسا واقعہ ہے جسے ’’قانون سے باہر موت کے گھاٹ اتارنے‘‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی اس واقعے پر ’’گہری اور جامع‘‘ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’مختصر اور غیر قانونی کارروائی کے ذریعے موت کی سزا دینے‘ جیسا دکھائی دیتا ہے۔ دفتر نے کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں فلسطینی بظاہر خود کو فورسز کے حوالے کر رہے تھے۔
فلسطین ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنین میں چھاپے کے دوران دونوں فلسطینی مرد غیر مسلح اور مکمل طور پر دست برداری کی حالت میں تھے۔ انہوں نے عمارت سے باہر آکر ہاتھ اٹھائے، قمیضیں اوپر کیں اور پھر زمین پر لیٹ گئے، تاہم اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کر دی۔
اسرائیلی فوج اور پولیس نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور دونوں افراد ’مطلوب مشتبہ‘ تھے۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیم اسلامک جہاد نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں میں سے ایک اس کا کمانڈر اور دوسرا فائٹر تھا۔
اسرائیلی فوج نے 2 نہتے فلسطینیوں کو گولی مار کر شہید کردیا
ہلاک ہونے والے یوسف اساسہ کے بھائی محمود اساسہ نے کہا کہ ’جو شخص سرینڈر کرے اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے، مگر اس طرح مار دینا ظلم ہے۔‘
غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری، 48 گھنٹوں میں مزید 200 سے زیادہ فلسطینی شہید
فلسطینی حقوق گروپ نے کہا کہ فوٹیج واضح دکھاتی ہے کہ دونوں افراد غیر مسلح اور کسی خطرے کا باعث نہیں تھے، لیکن فورسز نے انہیں موقع پر ہی گولیاں مار دیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق نومبر میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 21 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس واقعے کو ’بہیمانہ ماورائے عدالت قتل‘‘ اور ’جنگی جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
