ٹرمپ کے وزن میں 30 پاؤنڈ کی حیرت انگیز کمی!!! راز کیا ہے؟

0 minutes, 1 second Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکریٹری برائے صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں تقریباً 30 پاؤنڈ (13 کلو) وزن کم کر لیا ہے، حالانکہ ان کی جنک فوڈ کی محبت اب بھی برقرار ہے۔

فاکس نیوز کے میزبان شان ہینیٹی کے ساتھ فلوریڈا کے ایک اسٹیک اینڈ شیک ریسٹورنٹ میں گفتگو کے دوران، کینیڈی نے کہا، ’میں نے کل ہی انہیں دیکھا، اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے 30 پاؤنڈ وزن کم کیا ہے۔‘

ہینیٹی نے اس بات پر حیرانی ظاہر کرنے کے بجائے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ’وہ واقعی بہت اچھے لگ رہے ہیں۔ اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اب اگر وہ برگر کھاتے بھی ہیں تو بغیر بن کے کھاتے ہیں۔‘

کینیڈی نے جواب میں کہا، ’اوہ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنی خوراک میں واقعی تبدیلی لا رہے ہیں۔‘

ٹرمپ کے وزن میں کمی کا راز: محنت یا مصروفیت؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اپنی خوراک کے بارے میں کم ہی بات کی ہے، لیکن جب وہ اگست 2023 میں جارجیا کے فلٹن کاؤنٹی جیل میں اپنی مگ شاٹ کے لیے پیش ہوئے، تو ان کا وزن 215 پاؤنڈ درج کیا گیا تھا۔ جنوری 2024 میں ایک اور انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ’کام کے ذریعے‘ 20 پاؤنڈ کم کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا، ’میں اتنا مصروف رہا ہوں کہ زیادہ کھانے کا وقت نہیں ملتا، میں عام لوگوں کی طرح بیٹھ کر کھانے نہیں کھا سکتا۔‘

فاسٹ فوڈ سے محبت برقرار، مگر وزن کم کیسے ہوا؟

کینیڈی اور ہینیٹی نے گفتگو کے دوران ٹرمپ کی مشہور جنک فوڈ عادات پر بھی تبصرہ کیا، جس میں کے ایف سی، پیزا، ڈائیٹ کوک، اور میکڈونلڈز شامل ہیں۔

یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے وائٹ ہاؤس میں کلیمسن ٹائیگرز فٹبال ٹیم کے لیے فاسٹ فوڈ کا شاہی ضیافت سجایا تھا اور پنسلوانیا میں میکڈونلڈز کے ایک آؤٹ لیٹ پر خود فرائیر پر کام کرتے اور ڈرائیو تھرو میں آرڈرز لیتے دیکھے گئے تھے۔

رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے مذاق کرتے ہوئے کہا، ’اگر آپ کو میکڈونلڈز پسند نہیں، تو آپ کو ٹرمپ کے جہاز میں سوار نہیں ہونا چاہیے!‘

یہ بات اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب انہوں نے اس مشہور تصویر کا حوالہ دیا، جس میں ٹرمپ، ایلون مسک، ٹرمپ جونیئر اور امریکی اسپیکر مائیک جانسن ایک جہاز میں بیگ میکس اور چکن نگٹس کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔

یہ تصویر شاید ٹرمپ کی جانب سے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے خلاف ایک ہلکا سا انتقامی وار تھی، کیونکہ کینیڈی نے کچھ دن پہلے ہی ایک پوڈکاسٹ میں ٹرمپ کی خوراک کو ”زہر“ قرار دیا تھا۔

کینیڈی نے کہا تھا، ’وہ جو کچھ کھاتے ہیں، وہ بہت نقصان دہ ہوتا ہے، یہ انتخابی مہم کی خوراک بھی نہیں، بلکہ ایک خطرناک غذا ہے!‘

کینیڈی کی صحت سے متعلق پالیسیز

ہینیٹی نے انٹرویو میں یہ بھی پوچھا کہ کیا کینیڈی اپنے ”Make America Healthy Again“ ایجنڈے کے تحت چینی والے مشروبات پر پابندی لگائیں گے؟

کینیڈی نے جواب دیا، ’میں انہیں لوگوں سے نہیں چھینوں گا، لیکن حکومت کو ان کی سبسڈی نہیں دینی چاہیے۔‘

تاہم، ان کے ایک اور متنازعہ بیان نے بحث چھیڑ دی جب انہوں نے خسرہ ویکسین کے نقصانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’یہ ویکسین ہر سال کچھ اموات کا سبب بنتی ہے اور انہی بیماریوں کو جنم دیتی ہے، جن سے خسرہ خود متاثر کرتا ہے۔‘

اصل سوال: کیا ٹرمپ واقعی صحت مند ہو رہے ہیں؟

یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا وزن واقعی ان کی خوراک میں تبدیلی کے باعث کم ہوا ہے یا محض ان کی مصروفیت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ایک چیز طے ہے—فاسٹ فوڈ کی محبت اور وزن میں کمی کا یہ امتزاج ہر کسی کو حیران کر رہا ہے!

Similar Posts