روس، یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات پر رضامند
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی ثالثی میں روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان سہ فریقی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
کریملن کے مطابق مذاکرات آئندہ ماہ 10 نومبر یا اس کے بعد شروع ہو سکتے ہیں، جن میں جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور یوکرین کی سلامتی یقینی بنانے کے طریقوں پر بات کی جائے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک شاہی محل میں ملاقات کی۔ یہ دونوں رہنماؤں کی نویں ملاقات تھی، جس میں جنگ کے خاتمے، ممکنہ امن معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کریملن کا کہنا ہے کہ مجوزہ مذاکرات تکنیکی سطح پر ہوں گے اور ان کے لیے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ امریکا کی ثالثی میں اس سے پہلے امن مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوگئی تھی۔
ملاقات کا آغاز ایک خیر سگالی اقدام سے ہوا، جب روس نے امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ کو رہا کیا۔ ہبارڈ ریٹائرڈ امریکی اسکول ٹیچر ہیں، جن کی رہائی کا مطالبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود پیوٹن سے کیا تھا۔
دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی شرائط پر اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں یوکرین پر جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے منگل کو کہا تھا کہ یوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے، ورنہ اسے بہت برے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ یوکرین جنگ کو 24 گھنٹوں میں ختم کر دیں گے، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے اب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بتایا کہ وٹکوف نے پیوٹن کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک روز قبل ہونے والی ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا، جن میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی، فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں اور یورپی ممالک اور نیٹو کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
وٹکوف نے ان ملاقاتوں میں ہونے والی پیش رفت کو کسی حد تک مثبت رفتار قرار دیا، جبکہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یوکرین نے امن کے لیے نئی تجاویز اور خیالات پیش کیے تھے۔
تاہم اوشاکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ باریک نکات، یوں کہہ لیں، ہمیں مکمل طور پر مطمئن نہیں کرتے۔ ان کے مطابق پیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔
روس کے صدر پیوٹن جنگ کے بنیادی معاملات پر اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کے آثار کم ہی ظاہر کرتے رہے ہیں۔ روس کا اہم مطالبہ مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونیٹسک پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو چاہتا ہے کہ یوکرین نیٹو میں شامل نہ ہو اور جنگ بندی کے عارضی انتظام کے بجائے ایک جامع امن معاہدہ کیا جائے۔
ملاقات کے دوران وٹکوف نے پیوٹن کو ممکنہ امن معاہدے سے متعلق مختلف تجاویز پر مشتمل دستاویزات بھی پیش کیں۔ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی امن کے حوالے سے اپنی تجاویز روسی صدر تک پہنچانے کی خواہش ظاہر کی اور بعد میں فون کے ذریعے گفتگو میں شریک ہوئے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے سے متعلق اہم معاملات پر پیوٹن اور ٹرمپ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات میں بات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم کریملن پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ پیوٹن اور زیلنسکی کی براہ راست ملاقات سے پہلے اس کی تیاری تفصیل سے کرنا ضروری ہوگا، تاکہ اس کے نتیجے میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہو سکے۔