حنا پرویز بٹ کے بیانات حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں: عظمیٰ بخاری
صوبائی وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حنا پرویز بٹ کے بعض بیانات نہ صرف ان کی اپنی ذات کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں بلکہ پنجاب حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا وہ حنا پرویز بٹ کی تحریروں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں، تاہم بعض اوقات وہ نا سمجھی میں ایسی باتیں کر جاتی ہیں جو بعد میں ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔
صوبائی وزیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم لیگ (ن) کی خاتون رہنما حنا پرویز بٹ کے ایک حالیہ بیان نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید بحث چھیر دی تھی۔
انہوں نے ملتان میں 15 سالہ یتیم نوجوان وسیم عباس کے قتل کے ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ مریم نواز کی حکومت میں فوری انصاف ملتا ہے۔

ان کے اس بیان کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے عدالتی نظام پر سوالات اٹھانے سے تعبیر کیا گیا۔
شدید تنقید کے بعد حنا پرویز بٹ نے اپنا ٹوئٹ حذف کردیا تھا۔
یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ طور پر گاڑی سے کچلے جانے کے باعث کم عمر نوجوان وسیم عباس کی موت واقع ہو گئی تھی۔
پولیس کے مطابق مذکورہ نوجوان کم عمری میں کام چھوڑ کر جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے گاڑی کی ٹکر سے ہلاک کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد عظمیٰ بخاری نے بتایا تھا کہ گاڑی تلے کچلا جانے والا بچہ صرف دو وقت کی روٹی پر ملازم رکھا گیا تھا۔
اس واقعے میں نامزد مرکزی ملزم توقیت نذیر کو بعد ازاں پولیس تحویل سے فرار ہونے کے بعد منگل کے روز بہاولپور میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ملزم کی اس طریقہ کار سے ہلاکت اور اس کے بعد سامنے آنے والے سیاسی بیانات نے اس پورے واقعے اور پولیس عملداری کے طریقہ کار کو عوامی و سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔