میر رضا کیس: سندھ حکومت کا پولیس اصلاحات کے لیے ایک اور کمیٹی بنانے کا فیصلہ
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کیس کے تناظر میں سندھ حکومت نے پولیس کے نظام میں جامع اصلاحات کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ ڈی آئی جی ذوالفقارلاڑک کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جائے گی، جو پولیس کے شعبہ تفتیش کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔
میر رضا کیس کے تناظر میں سندھ حکومت نے پولیسنگ کے نظام میں جامع اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ڈی آئی جی ذوالفقار لاڑک کی سربراہی میں قائم ہونے والی یہ کمیٹی پولیس کے مختلف شعبوں کا جائزہ لے کر اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کرے گی۔
کمیٹی کو پولیس کے شعبہ تفتیش کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اس میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اس کے علاوہ کرائم سین یونٹ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا جب کہ پولیس کے دیگر متعلقہ شعبوں میں بہتری لانے کے لیے بھی تجاویز پیش کی جائیں گی۔
میر رضا کیس کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے پولیس اصلاحات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملے میں جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پولیس پر عوام کے عدم اعتماد کا ذکر کیا تھا، جس کے بعد پولیس کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور متعلقہ شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔
نئی کمیٹی پولیس کی تفتیشی کارروائیوں، کرائم سین یونٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں کے طریقہ کار کا جائزہ لے گی اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
سندھ حکومت کا فیصلہ پولیسنگ کے نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت پولیس کے مختلف شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تجاویز تیار کی جائیں گی۔
عرفان بلوچ کی نگرانی میں میر رضا کیس کی جے آئی ٹی بنانے کا اعلان
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے عرفان بلوچ کی نگرانی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی، جے آئی ٹی کی تشکیل میں کچھ پیچیدگیاں تھیں، جو حل کرلی گئی ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
سندھ اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ جےآئی ٹی کو مقدمے کا چالان پیش کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا اور اس حوالے سے ضروری شق جے آئی ٹی کے ٹرمز آف ریفرنس میں شامل کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیس میں پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے لیے ڈی آئی جی ذوالفقار لاڑک کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو پولیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرے گی۔
جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا: آئی جی سندھ
ادھر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کہنا ہے کہ میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن نے جو سفارشات کی ہیں ان پر عمل کیا جائے گا اور جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کے مطابق ہی کارروائی کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اچھے کام بھی کر رہی ہے، امن امان کو بحال رکھنا پولیس کی ذمے داری ہے تاہم پولیس سے کہیں غفلت بھی ہو سکتی ہے، جسے دیکھا جائے گا۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ کراچی کا 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی جب کہ ان کے جسم پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کے امکان کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا تاہم میر رضا کے اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اغوا کرکے تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔ کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب شواہد سے متعلق سوالات سامنے آنے پر معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔
میر رضا کے والد نے عدالت سے رجوع کرکے لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی اجازت طلب کی تھی۔ 6 اگست کو کراچی کی عدالت نے لاش قبر سے نکالنے اور میڈیکو لیگل بورڈ کے ذریعے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں طبی بورڈ کی تشکیل اور اس کے ارکان میں تبدیلی پر بھی تنازع سامنے آیا، جس کے باعث کارروائی کچھ وقت کے لیے مؤخر ہوئی۔
اہل خانہ کے مطالبے پر اصل میڈیکل بورڈ بحال کیا گیا اور 8 اگست کو لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس کی تفتیشی ٹیم بھی تبدیل کی گئی، قتل کی تفتیش زمان ٹاؤن پولیس اسٹیشن منتقل ہوئی اور مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔
میر رضا کے اہل خانہ نے تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سندھ حکومت سے براہ راست مداخلت اور پولیس کی سابقہ تفتیش کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت سندھ نے اگست میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے عدالتی کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ قتل کی تحقیقات غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق ہوئیں یا نہیں۔
کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ واقعے کے حالات، قتل کے ممکنہ محرکات، پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کے کردار، شواہد میں ممکنہ غفلت یا ردوبدل اور تفتیش میں سامنے آنے والی خامیوں کا جائزہ لے۔ اسے مزید تحقیقات، فرانزک تجزیے اور متعلقہ حکام کے خلاف قانونی یا محکمانہ کارروائی کی سفارشات دینے کا اختیار بھی حاصل تھا۔
میر رضا کے خاندان نے عدالتی کمیشن کے قیام پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ قتل کی تحقیقات ایسے افسران پر مشتمل ٹیم سے کرائی جائیں جن کا پہلے سے اس کیس سے تعلق نہ رہا ہو۔
خاندان نے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تاہم 2 ستمبر کو عدالت نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جے آئی ٹی تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے۔ عدالت نے جاری فوجداری تحقیقات میں مداخلت یا ان کی نگرانی سے بھی انکار کیا۔
عدالتی کمیشن نے کارروائی کے دوران پولیس افسران، میڈیکو لیگل حکام، اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلم بند کیے۔ سماعتوں میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جائے وقوعہ کی نگرانی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور تفتیشی ریکارڈ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرلی، جس کے بعد 15 اکتوبر کو رپورٹ سربمہر لفافے میں سندھ حکومت کے حوالے کردی گئی۔ رپورٹ میں کمیشن کے نتائج اور سفارشات کے علاوہ گواہوں کے بیانات اور متعلقہ دستاویزات بھی شامل ہیں۔
بعدازاں سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کی جب کہ وزیراعلیٰ نے رپورٹ متاثرہ خاندان کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق میر رضا کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سات لفافوں میں کابینہ کے سامنے پیش کی گئی، جس کے بعد کابینہ نے اس رپورٹ کو آج ہی پبلک کرنے کی منظوری دی۔
صوبائی کابینہ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے 4 رکنی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی ہے، جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔