پارلیمانی سال مکمل ہونے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوگیا، صدر مملکت آصف علی زرداری کا خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج شروع کردیا، جس کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا ہے جبکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ذاتی و سیاسی مفاد کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد مقدم رکھیں، ملک کو یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے، یہ بہت سے عالمی چیلنجز کی صدی ہوگی، پالیسی ریٹ میں کمی، زرمبادلہ میں اضافہ خوش آئند ہے، ٹیکس نظام میں اصلاحات وقت کا تقاضہ ہے، پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں جاری ہے، ایجنڈے کے مطابق صدر مملکت کے خطاب کے سوا کوئی اور کارروائی اجلاس میں شامل نہیں۔
اجلاس میں شرکت لیے اراکین پارلیمنٹ کی ایوان میں آمد کا سلسلہ جاری ہے، خورشید شاہ، عبدالقادر پٹیل، شیری رحمان ،فاروق ایچ نائیک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، شرمیلا فاروقی، سحر کامران، سید نوید قمر، آغا رفیع اللہ، شیری رحمان، طاہرہ اورنگزیب، فاطمہ زہرا، نور عالم خان، حنیف عباسی، شہلا رضا، سلیم مانڈوی، امیر مقام، راجہ پرویز اشرف، رمیش لال، انوار الحق کاکڑ، مصدق ملک ایوان میں پہنچ گئے۔
آصف بھٹو ، بلاول بھٹو زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، مریم نواز، پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ،وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ غیر ملکی سفراء کے بڑی تعداد بھی مہمان گیلری میں موجود ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم اور صدر زرداری کے درمیان چیمبر میں ملاقات بھی ہوئی۔ ملاقات میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
اجلاس کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے کے بعد تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی، جس کے بعد مشترکہ اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی اراکین کی بھی ایوان میں آمد ہوئی، پی ٹی آئی اراکین نے ایوان میں آتے ہی نعرے بازی کی اور ایوان میں پلے کارڈ بھی ایوان میں لے آئے۔
پرویز خٹک غلطی سے اپوزیشن بنچز کے طرف چلے گئے پھر یاد آنے پر واپس آئے اور وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم سے مصافحہ کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے صدر آصف علی زرداری کو خطاب کی دعوت دی تو اپوزیشن نے شدید نعرے بازی اور شور شرابہ شروع کر دیا، پی ٹی آئی ارکان نے ڈیسک بجاکر احتجاج شروع کیا جبکہ شدید نعرے بازی کے باعث صدر نے کانوں پر ہیڈ فون لگالیے۔
اس کے علاوہ وزیر شہباز شریف نے بھی ہیڈ فون لگا لیے جبکہ صدر مملکت تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب دیکھ کر مسکراتے رہے۔
احتجاج کے دوران اپوزیشن لیڈر عمر ایوب مکے مار مار کر ڈیسک بجاتے رہے، پی ٹی آئی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حق میں نعرے بازی ہوتی رہی۔
پاکستان علاقائی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے پرعزم ہے، آصف زرداری
صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پارلیمانی سال کے آغاز پر اس ایوان سے بطور سویلین صدر 8ویں بار خطاب کرنا میرا واحد اعزاز ہے، یہ لمحہ ہمارے جمہوری سفر کے تسلسل کا عکاس ہے اور نیا پارلیمانی سال اپنی پیشرفت کا جائزہ لینے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بہتر طرز حکمرانی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ عوام نے اپنی امیدیں پارلیمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں، اور ہمیں ان کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔ جمہوری نظام کو مضبوط کرنے اور قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے محنت کی ضرورت ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے حکومت کی معاشی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ تاریخی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور گورننس کے نظام کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے وزارتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے وژن اور مقاصد کا ازسر نو تعین کریں اور عوام کو درپیش مسائل کو ایک مقررہ مدت میں حل کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائیں۔
صدر آصف زرداری نے زور دیا کہ ملک میں معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔ سماجی اور اقتصادی انصاف کے فروغ کے ساتھ نظام میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ترقی کے ثمرات تمام صوبوں اور شہریوں تک یکساں پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دینے اور انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹیکس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا تاکہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ پاکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع لانا ہوگا اور آئی ٹی انڈسٹری کو معاشی ترقی کا کلیدی عنصر بنانا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے پائیدار سپورٹ کی ضرورت ہے۔ حکومت کو نوجوانوں کے کاروباری مواقع بڑھانے اور انہیں مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ عوام بالخصوص مزدور اور تنخواہ دار طبقہ شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو آئندہ بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور توانائی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنے کی سفارش کی۔
آصف زرداری نے خواتین کی نمائندگی بڑھانے اور انہیں مالی طور پر خودمختار بنانے پر زور دیا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رسائی کو بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تمام بچوں کو اسکولوں میں لانے اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق کو فروغ دینے کے لیے بجٹ میں مزید وسائل مختص کیے جائیں۔
صدر مملکت آصف زرداری نے ملک میں بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور غذائی قلت و پولیو جیسے چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ ہمارے اقتصادی مستقبل کے لیے کلیدی منصوبے ہیں اور انہیں مکمل طور پر فعال بنایا جانا چاہیے۔ زراعت اور پانی کے شعبے میں اصلاحات اور ماہی گیری و مویشی بانی کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، لہذا ہمیں قابل تجدید توانائی، کاربن کریڈٹ اور ماحول دوست پالیسیوں کو اپنانا ہوگا۔
سیکیورٹی کے حوالے سے آصف زرداری نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیوں کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے گا۔
صدر مملکت آصف زرداری نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔
قبل ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا گیا تھا، ایجنڈے کے مطابق صدر مملکت کے خطاب کے سوا کوئی اور کارروائی اجلاس میں شامل نہیں۔
صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ریکارڈ آٹھواں خطاب
16ویں قومی اسمبلی کی تشکیل کے بعد صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ سے دوسرا خطاب جبکہ مشترکہ اجلاس سے یہ ریکارڈ آٹھواں خطاب ہے۔
صدر مملکت نے عام انتخابات کے بعد گزشتہ برس 18 اپریل کو پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ 2008 سے 2013 تک ایوان صدر میں اپنے 5 سالہ دور کے دوران وہ پہلے ہی 6 بار پارلیمنٹ سے خطاب کر چکے ہیں۔
موجودہ قومی اسمبلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا ہے اور نیا پارلیمانی سال صدر مملکت کے خطاب سے شروع ہوتا ہے۔