کے پی کے میں آپریشن کی تیاری ہو رہی جو کہ بدمعاشی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

0 minutes, 0 seconds Read
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ کے پی کے میں آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے یہ بدمعاشی ہے، پاکستان جس نہج پر پہنچ گیا ہے آگے تباہی ہے۔

اسلام آباد بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے کے پی کے کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا، سب نے متفقہ طور پر کہا ملٹری آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مزاحمت کر رہے ہیں اور آخری سانس تک مقابلہ کریں گے، جس طرح آج پی ٹی آئی ڈٹی ہے کوئی سیاسی جماعت نہیں ٹک سکے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ایمان مزاری صاحبہ کا نام لیا کیونکہ مزاحمت کے دور میں بہنوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ہماری سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی بہنوں کی مزاحمت دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آج مجھ پر مشکل وقت ہے تو کل آپ پر بھی آنا ہے، آگ کل سب کے گھر کو لگے گی اگر آپ نے آواز اٹھائی اور ساتھ رہے تو آپ کا گھر بھی بچے گا، اگر آپ چپ رہیں گے تو کل آپ کی باری ہوگی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اللہ نے سب دیا ہے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی ہماری جنگ لڑ رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو ظلم و جبر اور فسطائیت ہو رہا ہے وہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا سیکورٹی تھریٹ ہے مگر عدالتیں بلاتی تھیں، بانی پی ٹی آئی زخمی حالت میں عدالتوں میں آتے تھے۔ آئینی کی سربلندی کے لیے سر کٹ جائیں کوئی پروا نہیں ہے۔ اگر ہم آئین کی سربلندی کیلئے کھڑے نہیں ہوتے تو کل کو ہمارے بچے ہم پر تھوکیں گے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھ اکہ توشہ خانہ سے گاڑیاں لینے والے اقتدار میں ہیں اور قانونی طریقے سے چیز لینے والا جیل میں ہے۔ ہمیں بانی پی ٹی آئی کا ساتھ دینا ہے، ہمیں 26 اور 27 ویں ترمیم کیخلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ وکلاء تحریک کا اعلان کریں، پاکستان کا ہر نوجوان انکے ساتھ کھڑا ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاست علی آزاد کا کہنا تھا کہ وکلاء نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا ہے، میں ہمیشہ حق آئین اور قانون کی بات کرتا ہوں، میں نے ہمیشہ بکنے والے لوگوں کی نشاندہی کی ہے۔

ریاست علی آزاد نے کہا کہ لوگوں کو گھروں سے اٹھانے پر خاموش رہنے والوں کو شرم آنی چاہیے، بکنے والے لوگ بار کی قیادت نہیں کر سکتے۔

ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ وکلاء کو دبایا جا رہا ہے، میں میڈیا کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آئین کو ختم کر دیا گیا ہے، وکلاء کی آزادی کو تہس نہس کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے چیف جسٹس و دیگر کو خط لکھا مگر کچھ نہیں بنا، کیا آئین اور قانون کی بات کرنا جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو ہم بار بار کریں گے۔ ہم وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Similar Posts