عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ صورتحال ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے پیدا ہوئی جس میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا مواد تھا۔
پولیس نے ویڈیو بنانے والے دو نوجوانوں کو مقامی افراد کی مدد سے حراست میں بھی لیا اور معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش بھی کی لیکن پھر بھی ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور مذہبی کتب کی بے حرمتی کی گئی۔
جس پر علاقے کی مسلم برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ شدید احتجاج کیا گیا لیکن ردعمل میں ہندو آبادی بھی سڑکوں پر آگئی۔
احتجاج کے دوران لوگوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کیں اور نعرے بھی لگائے گئے۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، مظاہرین کو حراست میں لیا اور کچھ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
تاہم حالات مسسل کشیدہ ہوتے چلے گئے اور قابو سے باہر صورت حال پھر سنبھل نہ پائی یہاں تک کہ کرفیو نافذ کرنا پڑا۔
ابتدائی طور پر کرفیو شام سے لگائی گئیں لیکن پھر کرفیو میں توسیع بھی کی گئی اور صرف چند گھنٹوں کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔
پولیس نے مسلم اور ہندو رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں اور عوام سے تحمل سے کام لینے کی درخواست کی ہے۔