انسانیت کا معاشی استحصال

0 minutes, 0 seconds Read
اسلام، انسانیت کو عدل، رحم، خیر خواہی اور ہم دردی کی بنیاد پر استوار دیکھنا چاہتا ہے۔ اس نے زندگی کے ہر گوشے میں ظلم، استحصال اور زیادتی کی ممانعت فرمائی ہے۔ مگر جب انسان دولت کی محبت میں اندھا ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کی ضرورت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔

یہی وہ فعل ہے جسے قرآن نے ربا یعنی سود کے نام سے یاد کیا اور اسے بدترین گناہوں میں شمار کیا۔ عربی زبان میں ربا کے معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں ربا اس زیادتی کو کہتے ہیں جو قرض پر مشروط طور پر لی جائے، خواہ وہ نقد ہو یا مدت کے بدلے۔

ربا ایسی زیادتی ہے جو بغیر کسی عوض کے حاصل کی جائے۔ یہی زیادتی انسانوں کے درمیان معاشی توازن کو برباد کر دیتی ہے اور ایک طبقے کو دوسرے طبقے پر حاکم بنا دیتی ہے۔

اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں قرض لینے والا جب مقررہ وقت پر ادا نہ کر پاتا تو قرض دینے والا کہتا: ’’ادا کرو یا اضافہ دو‘‘ اس طرح اصل مال پر اضافہ بڑھتا جاتا یہاں تک کہ مقروض غلامی کی حد تک پہنچ جاتا۔

اسلام نے اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے ختم کر دیا۔ قرآنِ مجید نے نہایت صراحت کے ساتھ اعلان فرمایا، مفہوم: ’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو سود باقی رہ گیا، اگر تم ایمان رکھتے ہو، پھر اگر ایسا نہ کرو تو اعلانِ جنگ سن لو اﷲ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے، اور اگر توبہ کرو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ (البقرہ) 

یہ اعلانِ الٰہی اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ سود صرف مالی جرم نہیں بلکہ ایمان کے منافی عمل ہے۔ قرآن نے کسی اور گناہ کے لیے اﷲ اور رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کا اعلان نہیں کیا، مگر سود کے بارے میں فرمایا کہ جو اس سے باز نہ آیا وہ دراصل خدا سے جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔

سود دراصل ایسا نظام ہے جو معاشرے میں عدل اور رحم کی روح کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ سرمایہ دار کو نفع دیتا ہے اور محنت کش کو نقصان۔ سودی نظام میں ایک فریق کا نفع یقینی ہوتا ہے جب کہ دوسرا نقصان اٹھانے پر مجبور۔

اسلام نے اسے ظلم کہا اور فرمایا کہ تجارت حلال ہے مگر سود حرام۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، مفہوم: ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے شیطان نے چُھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو۔

یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں خرید و فروخت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالاں کہ اﷲ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام فرمایا۔‘‘ (سورۃ البقرہ: ترجمہ کنزْالایمان)

رسولِ اکرم ﷺ نے سود کے بارے میں انتہائی سخت کلمات ارشاد فرمائے۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ کے رسول کریم ﷺ نے سود کھانے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والے سب پر لعنت فرمائی، اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔

(صحیح مسلم) سنن ابن ماجہ میں روایت ہے، مفہوم: ’’سود کے ستّر گناہ ہیں، ان میں سب سے کم درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔‘‘ یہ احادیث سود کی سنگینی اور اس کے روحانی نقصان کو ظاہر کرتی ہیں۔ فتحِ مکہ کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کہ آج کے دن سے ہر قسم کا سود منسوخ، ممنوع اور حرام ہے۔

اسلامی نظامِ معیشت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ رہے بلکہ معاشرتی ضرورتوں کے مطابق گردش کرتی رہے۔ سودی نظام اس مقصد کے الٹ ہے، یہ دولت کو محدود ہاتھوں میں مرکوز کر دیتا ہے۔

اس نظام میں دولت محنت کرنے والوں سے نکل کر مال داروں کے قبضے میں آ جاتی ہے۔ غریب قرض دار مزید مقروض ہو جاتا ہے جب کہ امیر اور طاقت ور مزید امیر بنتے جاتے ہیں۔ یہی طبقاتی تقسیم معاشرتی بے سکونی اور بغاوت کو جنم دیتی ہے۔

قرآنِ کریم نے اس کا فلسفیانہ جواب ان الفاظ میں دیا: ’’اور جو تم سود دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھ جائے، وہ اﷲ کے نزدیک نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم دیتے ہو اﷲ کی خوش نودی چاہنے کو، وہی لوگ بڑھانے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الروم: ترجمہ کنزْالایمان)۔

یہاں ربّ کریم نے واضح کر دیا کہ سود بہ ظاہر بڑھتا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں مٹ جاتا ہے، اور زکوٰۃ بہ ظاہر کم دکھتی ہے مگر برکتوں سے بڑھتی ہے۔ سود دلوں کو سخت کرتا ہے جب کہ زکوٰۃ دلوں کو نرم کرتی ہے۔

سود نفرت پیدا کرتا ہے جب کہ زکوٰۃ محبت کا رشتہ بناتی ہے۔ امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں : ’’سودی نظام محنت کرنے والے کو کم زور اور بغیر محنت نفع اٹھانے والے کو غالب بنا دیتا ہے، جس سے عدل ختم اور ظلم کا راج قائم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہدایت ہے کہ اگر سود کے معاملے میں شک بھی ہو تو اسے چھوڑ دینا ایمان کی سلامتی کے لیے بہتر ہے۔‘‘

موجودہ دور میں سود نے اپنی صورت بدل لی ہے۔ سودی کاروبار کے زہریلے نظام کے مختلف روپ اور نام ہیں اور سبھی جانتے ہیں کہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ جس کمائی میں بلا محنت نفع، مدت کے بدلے اضافہ یا قرض پر مشروط زیادتی ہو، وہ ہر حال میں سود ہے خواہ اسے منافع یا کوئی اور کتنا بھی دل فریب اور مسحور کن نام دے دیا جائے بہ ہر حال سود ہی ہے اور تباہ کن ہے۔

اسلام نے اس ظلم کے مقابلے میں ایک متوازن، شفاف اور عادلانہ نظام دیا ہے جو عدل و تعاون پر مبنی اور انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ عالمی مالیاتی نظام سود پر قائم ہے۔ اسی نے ترقی پذیر اقوام کو قرضوں کے جال میں پھنسا رکھا ہے۔

عالمی بینک اور سودی ادارے غریب ممالک سے ان کے وسائل نچوڑ رہے ہیں۔ سود کا یہ عالمی جال ایک ایسی زنجیر ہے جو مجبور اقوام سے محنت کا حق چھین کر غلامی کے طوق پہنا دیتی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسان دولت کا مالک نہیں بلکہ امانت دار بنے۔

سودی نظام انسان کو مال کا غلام بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے سود کو صرف ایک مالی گناہ نہیں بلکہ اﷲ اور رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کے مترادف قرار دیا۔ سود وہ آگ ہے جو بہ ظاہر کمائی دکھتی ہے مگر دراصل ایمان، اخلاق اور برکت کو جلا دیتی ہے۔

اس آگ کی لپٹیں صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی نظاموں کو سود سے پاک کریں۔ اپنے گھروں، کاروبار اور قومی اداروں میں حلال اور پاکیزہ مالی اصول اپنائیں۔

سود سے بچنا صرف ایک دینی فریضہ نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت ہے۔ جو قوم سود چھوڑ دیتی ہے، اﷲ اس کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔ قرآن کا اعلان آج بھی زندہ ہے: ’’اﷲ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اﷲ کسی ناشکرے گناہ گار کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘ (سورۃ البقرہ: ترجمہ کنزْالایمان)

اسلامی نظامِ معیشت میں سکون، عدل اور خیر ہے، جب کہ سودی نظام میں اضطراب، ظلم اور بے برکتی۔ ہمیں وہ نظام اختیار کرنا ہے جو انسان کو خدا کے قریب کرے، نہ کہ اس کے غضب کے قریب۔ سُود سے پاک معیشت ہی حقیقی اسلامی زندگی اور قوموں کی آزادی کی ضامن ہے۔

Similar Posts