قرآن مجید میں سیکڑوں مقامات پر اﷲ نے اپنی صفتِ رحمت کا ذکر کیا ہے اور حوالہ دیا ہے، تمام قرآنی سورتوں کے آغاز میں جو آیت تلاوت کی جاتی ہے اور تمام اہم کاموں کا آغاز جس بول سے کیے جانے کا حکم ہے وہ ’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم‘‘ ہے، جس میں اﷲ کے مہربان اور رحیم ہونے کی صراحت ہے، قرآن میں مستقل ایک سورت ’’سورۃ الرحمٰن‘‘ کے نام سے موسوم ہے، جسے قرآن کی زینت قرار دیا گیا ہے، اس کا آغاز بھی صفتِ ’’رحمٰن‘‘ کے ذکر سے ہوا ہے، اور پوری سورت میں ابتدا سے انتہا تک اسی صفت کے ثمرات اور نمونوں کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے مقامات پر گناہ گاروں، گناہوں اور جہنم کی سزاؤں کے ذکر کے بعد اﷲ نے اپنے غفور اور رحیم ہونے کی صراحت فرمائی ہے، اور کئی مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے اپنی طرف رحمت کی نسبت کی ہے اور کئی جگہ اپنی رحمت کی وسعت کو بیان فرمایا ہے: ’’تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کا معاملہ لازم کرلیا ہے۔‘‘
’’تمہارا رب بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے۔‘‘
’’میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔‘‘
’’تمہارا رب بہت بخشنے والا بڑی رحمت والا ہے۔‘‘
فرشتوں کا یہ قول بھی قرآن میں نقل ہُوا ہے: ’’اے ہمارے رب! آپ کی رحمت اور علم ہر چیز پر بھاری ہے۔‘‘
جناب رسول اﷲ ﷺ کی احادیث میں اﷲ کی شانِ رحمت کا تذکرہ مختلف پیرایوں میں بڑی کثرت سے ملتا ہے، ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: اﷲ نے لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے:
’’میری رحمت میرے غضب پر غالب رہتی ہے۔‘‘
’’میری رحمت میرے غضب پر مقدم رہتی ہے۔‘‘
مختلف احادیث میں یہ صراحت ملتی ہے کہ اﷲ نے اپنی رحمت کے سو حصے فرمائے، اس میں نناوے حصے اپنے پاس عالمِ آخرت کے لیے روک لیے، اور ایک حصہ دنیا میں بھیج دیا، انسانوں، جنوں، حیوانات میں باہم جو محبت، تعلق اور اُنس پایا جاتا ہے وہ اسی ایک حصۂ رحمت کا اثر ہے۔ اﷲ کی اسی شانِ رحمت کا مظہر ہے کہ اس نے اپنے احکام سے بغاوت کرنے والوں اور گناہوں میں مبتلا افراد کو توبہ و استغفار اور اپنی طرف رجوع کا حکم دیتے ہوئے ان کو ناامیدی سے نکالا ہے اور اپنی رحمت کی امیدوں کی ڈور انھیں تھما دی ہے، چناں چہ فرمایا: ’’اے میرے وہ بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقین جانو! اﷲ سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، یقیناً وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے، بس تم اپنے رب سے لو لگالو۔‘‘
’’تم اﷲ کی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ اﷲ کی رحمت بہانہ ڈھونڈتی ہے، اور بسا اوقات بندوں کی بہت چھوٹی نیکیاں بلکہ دل سے احساسِ ندامت، آنکھوں کے چند قطرے، اور معافی کے بول اﷲ کی رحمت کو جوش دینے میں کام یاب ہوجاتے ہیں، اور انھی پر بے سان و گمان اﷲ کی طرف سے تما م گناہوں کی مغفرت اور جنت و رحمت کا فیصلہ ہوجاتا ہے، احادیث میں جگہ جگہ ذکر آیا ہے کہ ایک بدکار عورت کو صرف پیاسے کتے کو پانی پلانے کے عمل پر اﷲ کی طرف سے مغفرت عطا فرما دی گئی، اسی لیے آپ ﷺ نے ہدایت دی ہے:
’’تم کبھی کسی نیک کام کو ہرگز حقیر اور معمولی نہ سمجھو۔‘‘
کسی نیکی کو معمولی سمجھنا اور اسے چھوڑدینا بے حد خطرناک بات ہے، بہت ممکن ہے کہ اسی نیکی کی وجہ سے اﷲ کی رحمت متوجہ ہوجائے اور بیڑا پار ہوجائے۔ نیکیوں کو معمولی قرار دے کر اسے چھوڑنے کا خیال ڈالنا شیطان کی مکارانہ تدبیر ہے، اس دام میں پھنسنا بڑی نادانی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے ہاں کون سا عمل مقبول ہوجائے، وہاں قیمت عمل کے حجم، سائز اور گنتی کی نہیں بلکہ وہاں عمل کے وزن کی قیمت ہے، اور یہ وزن اخلاص سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے بہت سے اعمال کیے لیکن ان میں اخلاص نہیں تھا تو گنتی کے اعتبار سے تو وہ اعمال زیادہ تھے، لیکن فائدہ کچھ نہیں۔ دوسری طرف اگر عمل چھوٹا سا ہو لیکن اس میں اخلاص ہو تو وہ عمل اﷲ تعالیٰ کے یہاں بڑا بن جاتا ہے۔ لہٰذا جس وقت دل میں کسی نیکی کا ارادہ پیدا ہورہا ہے تو اس وقت دل میں اخلاص بھی موجود ہے، اگر اس وقت وہ عمل کرلو گے تو امید ہے کہ وہ ان شاء اﷲ مقبول ہوجائے گا۔‘‘
احادیث میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے، مفہوم: ایک تاجر اﷲ کے دربار میں حاضر ہوگا، اس کے اعمال نامے میں نیکیاں بالکل نہیں ہوں گی، مگر اس کے پاس ایک خاص عمل ہوگا کہ وہ کاروبار میں دوسروں کے لیے آسانیاں فراہم کرتا رہا، دوسروں کو قرض دیتا رہا، پھر تنگ دستوں کا قرض معاف کرتا رہا اور خوش حال لوگوں کے لیے بھی نرمی کا معاملہ کرتا رہا، جب اﷲ کے سامنے اس کے اس عمل کا ذکر ہوگا تو اﷲ کی رحمت جوش میں آئے گی اور اﷲ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ (بخاری)
روایات میں آتا ہے کہ قیامت کے دن اﷲ رب العزت دو بندوں کو بلائیں گے اور ان سے فرمائیں گے کہ تم نے دنیا میں بے شمار گناہ کیے ہیں، اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے، جاؤ! جہنم میں جاؤ، اس حکم کو سن کر ان میں سے ایک بہت تیزی سے جہنم کی طرف چل پڑے گا، دوسرا دھیرے دھیرے چلے گا اور بار بار مڑ کر اﷲ کو دیکھے گا، اﷲ تعالیٰ ان دونوں کو واپس بلائیں گے اور پہلے شخص سے سوال کریں گے کہ میں نے تم کو جہنم میں جانے کے لیے کہا، تم تیزی سے چل پڑے، اس کی کیا وجہ تھی؟ وہ بولے گا: اے میرے رب! میں نے دنیا میں آپ کا ہر حکم توڑا، اب آپ نے یہ آخری حکم دیا تو میں نے سوچا کہ اب یہ حکم نہیں توڑوں گا، اس لیے میں تیزی سے چل پڑا۔ اﷲ دوسرے سے فرمائیں گے: تم بار بار پیچھے مڑ کر کیوں دیکھ رہے تھے؟ وہ عرض کرے گا: آپ کی رحمت کی امید میں۔ بس یہ سن کر اﷲ تعالیٰ دونوں سے راضی ہوجائیں گے اور جنت کا فیصلہ فرما دیں گے۔ روایات میں وارد ہوا ہے کہ راستے سے خاردار ٹہنی ہٹانے کے عمل پر بھی اﷲ کی رحمت متوجہ ہوئی اور ایسا کرنے والے کی مغفرت کا فیصلہ فرما دیا گیا۔
ایک مجلس میں اﷲ کی وسعتِ رحمت کا ذکر کرتے ہوئے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم:
’’سب سے آخر میں جو گناہ گار جہنم سے نکالا جائے گا، اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ باہر نکل کر بھی اس کا رخ جہنم کی طرف رکھا جائے گا اور وہ جھلس رہا ہوگا، وہ عرض کرے گا: ’’اے میرے رب! میرا رخ جہنم کی طرف سے ہٹا دیجیے، اس لیے کہ اس کی ہوا مجھے جھلسا رہی ہے اور اس کے شعلے مجھے جلا رہے ہیں۔‘‘ یہ سن کر اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اگر تمہارا رخ جہنم کی طرف سے ہٹا دیا جائے تو کیا پھر کوئی اور مطالبہ تو نہیں کرو گے؟ وہ قسم کھاکر عہد و پیمان کرے گا کہ اگر یہ سہولت مجھے دے دی جائے تو میں کچھ اور مطالبہ نہیں کروں گا۔ اب اس کا رخ جہنم سے ہٹا کر جنت کی طرف کردیا جائے گا، اس کی نگاہ جنت کی نعمتوں اور رونقوں پر پڑے گی تو تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد بالآخر وہ کہے گا: ’’اے میرے رب ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دیجیے۔‘‘ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: ’’کیا تھوڑی دیر پہلے تم یہ عہد و پیمان نہیں کرچکے ہو کہ اب کچھ اور مطالبہ نہیں کرو گے؟‘‘ وہ بندہ بولے گا: ’’ اے میرے رب: مجھے اپنی مخلوقات میں سب سے محروم و بدنصیب مت بنائیے۔‘‘ اﷲ فرمائے گا: ’’اگر تمہاری یہ بات مان لی جائے تو پھر کچھ اور تو مطالبہ نہیں کرو گے؟‘‘ وہ کہے گا: مجھے آپ کی عزت کی قسم! عہد کرتا ہوں کچھ اور مطالبہ نہیں کروں گا۔ پھر اسے جنت کے دروازے کے قریب پہنچا دیا جائے گا، اب وہ قریب سے جنت کے مناظر اور نعمتوں کو دیکھے گا تو بے اختیار کہنے لگے گا: ’’اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دیجیے۔‘‘ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اے فرزند آدم! تعجب ہے، تو کتنا عہد شکن ہے، کیا تم نے یہ عہد و پیمان نہیں کیا تھا کہ تمہیں جو کچھ دیا جاچکا ہے اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگو گے؟‘‘ اس پر وہ بندہ بولے گا: ’’اے میرے رب! مجھے سب سے زیادہ محروم نہ بنائیے۔‘‘ یہ سن کر اﷲ کی رحمت جوش میں آئے گی، اﷲ ہنسے گا، راضی ہوجائے گا، اور اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت عطا فرما دے گا، اور اس پر بس نہیں، اﷲ فرمائے گا: ’’تَمَنَّ‘‘ مزید تمنا کرو اور مانگو۔ وہ بندہ ساری تمنائیں رکھے گا، اﷲ اپنی شانِ رحمت سے اسے بہت سی چیزیں یاد دلائے گا، اور آخر میں فرمائے گا: ’’تمہیں یہ سب کچھ ملے گا اور اس کا دس گنا مزید بھی ملے گا۔ ‘‘ (بخاری، کتاب الصلوہ)
واقعہ یہ ہے کہ اﷲ کی رحمت بے حد و بے پناہ ہے، وہ نیکیوں کے ارادے ہی پر اجر عطا کردیتا ہے، وہ ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا بخشتا ہے، اور اخلاص کے تناسب سے یہ ثواب بڑھاتا جاتا ہے، حتیٰ کہ سات سو گنا تک پہنچا دیتا ہے، پھر اس کی رحمت موج زن ہو تو جسے چاہتا ہے اس سے بھی کہیں زیادہ عطا فرماتا ہے، حدیث قدسی میں ہے، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں، میں اپنے بند ے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اس سے زیادہ بہتر مجمع میں اسے یاد کرتا ہوں، جو مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے، میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے، میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جو میرے پاس چلتا ہُوا آتا ہے، میں اس کے پاس دوڑتا ہُوا آتا ہوں، جو شخص پوری روئے زمین کے برابر گناہ لے کر میرے پاس آئے گا، اگر وہ شرک سے بچتا رہا تو میں اپنی رحمت و مغفرت کی مکمل بارش اس پر برسا دوں گا۔‘‘ (مشکوٰۃ)
ضرورت اس کی ہے کہ ہم اپنا دامنِ مراد اﷲ کی رحمتوں سے مالا مال کرنے کی فکر کریں، اپنی غفلتوں سے باز آئیں، اپنے رب کو منانے کی کوشش کریں اور ایمان کی پختگی کے ساتھ اپنے دلوں میں اﷲ کا خوف پیدا کریں کہ اسی تدبیر سے ہم یقینی طور پر اﷲ کی رحمت اپنی طرف متوجہ کراسکتے ہیں اور اپنی بگڑی سنوار سکتے ہیں۔