بل کے متن کے مطابق اس ترمیم کے تحت ضابطہ فوجداری کی دفعہ 417 میں تبدیلی کی گئی ہے، جس کا تعلق ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کے اختیار سے ہے۔
منظور کیے گئے بل کے مطابق اب بریت کے خلاف اپیل دائر کرنے کی منظوری صوبائی حکومت کے بجائے محکمہ پبلک پراسیکیوشن پنجاب کے سیکریٹری دیں گے۔ ترمیم کے بعد سیکریٹری پبلک پراسیکیوشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ پبلک پراسیکیوٹر کو براہ راست بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت دے سکیں گے۔
بل میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد اپیل دائر کرنے کے عمل کو تیز کرنا اور اجازت کے طویل اور پیچیدہ سرکاری طریقہ کار کو ختم کرنا ہے۔ بل کے متن کے مطابق اکثر کیسز میں سرکاری منظوری میں تاخیر کے باعث عدالتی مدت ختم ہو جاتی تھی، جس کے باعث اپیل دائر نہیں ہو پاتی تھی۔
یہ بل اب پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد گورنر پنجاب کو ارسال کیا جائے گا۔