مشرقی طب اور حکمت صدیوں سے ان غذاؤں کی اہمیت بیان کرتی آئی ہے جو نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ اندرونی حرارت بھی بڑھاتی ہیں۔ ایسی غذائیں خون کی گردش کو بہتر بنا کر سردی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
یہاں ہم کچھ ایسی دیسی غذاؤں کا تذکرہ کررہے ہیں جو سرد موسم میں آپ کو غذائیت اور صحت کے ساتھ جسم کو گرم رکھنے میں بھی معاون ہوں گی۔
گھی
گھی کو ہمیشہ سردیوں کی غذا کا بادشاہ سمجھا گیا ہے۔ اس میں پائی جانے والی مفید چکنائیاں جسم کو فوری توانائی دیتی ہیں اور اندر سے گرم رکھتی ہیں۔ روٹی، دال یا کھچڑی میں تھوڑا سا گھی شامل کرنے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، جو سرد موسم میں عموماً سست پڑ جاتا ہے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ جب ہاضمہ درست ہو تو جسم قدرتی طور پر زیادہ دیر تک گرم رہتا ہے۔
اجوائن
اجوائن بھی سردیوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ معدے کو فعال بناتی ہے اور جسم کے اندرونی درجۂ حرارت کو برقرار رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے اجوائن والے پراٹھے یا اجوائن کا پانی سرد موسم میں گھریلو نسخوں کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جو بدہضمی اور ٹھنڈک سے بچاتے ہیں۔
تِل
تل کو گرم غذاؤں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تل کے لڈو، چکّی یا چٹنی سردیوں میں نہ صرف توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ جسم کی خشکی اور تھکن کو بھی دور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیسی روایات میں تل سے بنی اشیاء کو سرد موسم کی خاص خوراک سمجھا جاتا ہے۔
باجرہ
باجرے کی روٹی بھی سردیوں کی پہچان مانی جاتی ہے۔ چونکہ یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے، اس لیے جسم کو زیادہ توانائی خرچ کرنی پڑتی ہے، جس سے قدرتی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ باجرے کی روٹی پر گھی یا گڑ لگا کر کھانا سردی کے خلاف ایک مؤثر دیسی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
ادرک
ادرک ہر گھر کی لازمی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ چاہے چائے میں شامل کی جائے یا سالن میں، یہ خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور ہاتھ پاؤں کی ٹھنڈک دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سردیوں میں ادرک کا استعمال جسم کو چاق و چوبند رکھتا ہے۔
مونگ کی دال
مونگ کی دال بظاہر ہلکی غذا ہے، لیکن جب اسے گھی اور گرم مصالحوں کے ساتھ پکایا جائے تو یہ جسم کو سکون اور حرارت فراہم کرتی ہے۔ مونگ دال کی کھچڑی یا سوپ سرد موسم میں ایک متوازن اور فائدہ مند انتخاب مانا جاتا ہے۔
یہ روایتی دیسی غذائیں نہ صرف ذائقے سے بھرپور ہیں بلکہ سردیوں کی شدت کم کرنے میں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ بزرگوں کی آزمودہ حکمت آج بھی کارآمد ہے، کیونکہ قدرتی غذائیں صحت کو دیرپا فائدہ پہنچاتی ہیں۔