9 دن میں 20 افراد کو کچل کر ہلاک کرنے والا بدمست ہاتھی چھلاوا بن گیا

بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں ایک جنگلی ہاتھی نے صرف نو دن کے اندر 20 افراد کو ہلاک کر دیا اور تاحال خوف کی علامت بنا ہوا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ہاتھی کے شہریوں کو کچل کر مار ڈالنے کے یہ واقعات یکم سے 9 جنوری کے درمیان جھاڑکھنڈ مغربی ضلع میں پیش آئے۔

یہ وہ گھنے جنگلات سے گھرا علاقہ ہے جہاں ایشیائی ہاتھی پورے طمطراق کے ساتھ انسانی آبادی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔

اس گھنے جنگل میں کچھ دیہات بھی آباد ہیں جس میں کھیت کھلیان بھی ہیں اور اس جنگل کے اندر بھی انسانوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ 

ایک غیر معمولی واقعے میں ایک نر ہاتھی بدمست ہوگیا ہے جو کم از کم 20 انسانوں کی جان لے چکا ہے اور اب بھی جنگل میں خوف کی علامت ہے۔

حکام نے بتایا کہ فاریسٹ حکام کے مطابق ہاتھی نوجوان، انتہائی پھرتیلا ہے اور زیادہ تر رات کے وقت جگہ بدلتا رہتا ہے، جس کے باعث اسے پکڑنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت 100 سے زائد فاریسٹ اہلکار، ٹریکرز اور ریسکیو ٹیمیں ہاتھی کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ پورے علاقے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

اس کے باوجود اب تک ہاتھی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ شہریوں کو جنگل میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

ڈویژنل فارسٹ آفیسر کلدیپ مینا نے صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ اتنی ہلاکتوں میں ایک ہی نر ہاتھی ملوث ہے۔

ادھر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چندن کمار نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک فاریسٹ اہلکار بھی شامل ہے جبکہ زیادہ تر اموات رات کے وقت ہوئیں جب لوگ چاول کی فصل کی حفاظت کے لیے کھیتوں میں موجود تھے یا گھروں کے باہر سو رہے تھے۔

5 جنوری کو ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں کندرا اور ان کے  6 اور 8 سالہ بچے ہاتھی کے حملے میں مارے گئے جبکہ کندرا کی اہلیہ اپنی دو سالہ بچی کے ساتھ جان بچانے میں کامیاب ہو گئیں۔

ممکنہ وجوہات

فاریسٹ حکام کا کہنا ہے کہ ہاتھی ممکنہ طور پر اپنے جھنڈ سے بچھڑ چکا ہے جس کے باعث اس کا رویہ غیر متوازن ہے۔

ان کے بقول ہاتھی اس وقت ممکنہ طور پر “مسٹ” (Musth) کی کیفیت میں ہے جو 15 سے 20 دن برقرار رہتی ہے۔

یہ ایک ایسی جسمانی حالت ہوتی ہے جس میں نر ہاتھیوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور وہ انتہائی جارحانہ ہو جاتے ہیں۔

 

Similar Posts