پی ٹی آئی اور اس کے رہنما یہ بھول گئے کہ پی پی کی اسی سندھ حکومت نے بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت اسلامی کا میئر پی ٹی آئی کے یوسی چیئرمین توڑ کر منتخب نہیں ہونے دیا تھا اور انھیں غیر حاضر کرا کر کراچی میں پہلی بار اپنا میئر منتخب کر لیا تھا، ورنہ جماعت اسلامی اپنا میئر اور پی ٹی آئی اپنا ڈپٹی میئر باآسانی منتخب کراسکتے تھے اور دونوں کے ارکان کونسل پیپلز پارٹی سے زیادہ تھے۔
اسی سازشی جمہوریت میں ناکامی کے بعد جماعت اسلامی پی پی کے میئر کو مسلط میئر قرار دیتی ہے اور پی ٹی آئی مسلسل خاموش ہے کیونکہ حکومت اور پیسہ طاقتور ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی 2017 میں پی ٹی آئی سے مل کر بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت بھی ختم کرا چکی ہے جب کہ 2006 میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت کے تحت ایک دوسرے کی حکومت برداشت کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔
کہتے ہیں کہ سیاست اور جمہوریت میں سب کچھ جائز ہے اور سیاستدان اپنا مفاد مدنظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں اورکبھی انھیں مصلحت کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے، جس طرح موجودہ حکومت بنانے کے لیے معاملات طے ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی نے آئینی اور مسلم لیگ (ن) نے حکومتی عہدے لینے کا معاہدہ کیا تھا جس میں دونوں پارٹیوں کی مجبوری بھی تھی کیونکہ پی ٹی آئی دونوں پارٹیوں کو فارم 47 کے ذریعے منتخب ہونے کا الزام لگاتی تھی کہ پی ٹی آئی نے 80 فی صد نشستیں جیت لی تھیں مگر اس کا مینڈیٹ چوری کرکے موجودہ حکومت بنائی گئی تھی جب کہ وفاق اور پنجاب میں اس کی حکومتیں بننے نہیں دی گئیں۔
پی ٹی آئی کے بانی 2011 سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو چور ڈاکو قرار دیتے آئے کہ انھوں نے ملک کو لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور پیسہ منتقل کیا۔ بانی نے اپنے اس چور ڈاکو کے بیانیے کی بنیاد پر بالاتروں کو متاثر کرکے انھی کی مدد سے آر ٹی ایس بٹھا کر اکثریت نہ ہونے کے باوجود اقتدار حاصل کیا تھا اور اقتدار میں بھی وہ اپنے بیانیے پر قائم رہے مگر اپنے اقتدار میں بیرون ملک سے وہ چوری کی گئی رقم واپس لانے میں ناکام رہے جس کی واپسی کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے اور ان کے قریبی ساتھی مراد سعید نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر چور ڈاکوؤں کی بیرون ملک چھپائی گئی دو سو ارب ڈالر کی رقم واپس لا کر ایک سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر ماریں گے اور باقی ایک سو ارب ڈالر عوام اور ملک پر خرچ کریں گے۔
بانی اپنے اقتدار میں دونوں پارٹیوں کی قیادت کی مبینہ طور لوٹی گئی دولت واپس نہ لا سکے اور اب وہ خود اور ان کی اہلیہ توشہ خانہ سے چوری کا قیمتی سامان ہتھیانے، سعودی پرنس کی قیمتی گھڑی دبئی میں فروخت کرکے کروڑوں روپے حاصل کرنے کے الزام میں سزا یافتہ قرار پا چکے ہیں۔ بانی کے چور ڈاکو قرار دیے گئے ان کے مخالف سیاستدان اب اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ان پر الزام لگانے والا بانی اپنی اہلیہ سمیت سزا بھگت رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت اپنا وسیع تر مفاد مدنظر رکھتی ہے اور مصلحت کو بھی ترجیح دیتی ہے جس کا حالیہ ثبوت پیپلز پارٹی کی پی ٹی آئی سے قربت اور وزیر اعلیٰ کے پی کا سندھ حکومت کی طرف سے سرکاری استقبال ہے جس کے لیے کراچی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر سعید غنی کا انتخاب کیا گیا جب کہ کراچی میں سندھ کابینہ کے سینئر وزیر بھی موجود تھے۔ سعید غنی کا کراچی آنے والے مہمان وزیر اعلیٰ کو اجرک اور ٹوپی پہنانے میں بھی پیپلز پارٹی کی کوئی مصلحت بھی ہو سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی 2008 میں بھی مصلحت کے تحت مسلم لیگ (ن) کو اپنا اتحادی بنا کر اپنی حکومت میں شامل کر چکی ہے مگر جلد وعدہ وفا نہ ہونے پر (ن) لیگ الگ ہوئی تھی تو مصلحت کے تحت اسی (ق) لیگ کو پی پی حکومت میں شامل کر لیا تھا جو پہلے اس کی مخالف تھی، متحدہ قومی موومنٹ بھی اقتداری مصلحت کے لیے (ق) لیگ، پی پی، (ن) لیگ اور پی ٹی آئی حکومتوں میں شامل اور حکومتیں چھوڑتی بھی رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بھی مصلحت کے تحت جنرل مشرف کے وزیروں کو اپنی حکومت میں شامل کیا تھا اور پہلے انھیں واپس نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ پی ٹی آئی بھی اقتدار، سیاسی مفاد کے لیے مصلحت میں مشہور رہی جس نے مصلحت کے تحت ق لیگ سے اتحاد کر لیا تھا۔
اقتداری مصلحت کے تحت پرویز الٰہی کے اپنے خاندان میں بھی سیاسی دراڑ آ چکی ہے اور وہ چوہدری شجاعت سے سیاسی تعلق ختم کرکے پی ٹی آئی سے اقتدار کے لیے امید لگائے بیٹھے ہیں جب کہ سب جانتے ہیں کہ وفاداروں کی قدر پی ٹی آئی کی سرشت میں شامل ہی نہیں ہے وہ تو اقتدار کے لیے طاقتور کو پہلے قوم کا باپ قرار دیتے رہے پھر حکومت چھن جانے کے بعداسی کے خلاف بیانیہ بنا لیا ۔
پیپلز پارٹی کی پی ٹی آئی سے قربت کی وجہ بھی مصلحت ہے اور اسی لیے وزیر اعلیٰ کے پی کو کراچی و حیدرآباد کے دورے میں فری ہینڈ دیا کہ دونوں شہروں میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بچے کچھے اثر کو ختم کیا جائے کیونکہ وہ اس وقت سندھ میں حکومت کی اپوزیشن ہے جس کو پی ٹی آئی سیاسی نقصان پہنچا چکی ہے۔ پنجاب میں پی پی کا (ن) لیگ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بلکہ وہاں اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں ہے اور پی پی کے اکثر رہنما پی ٹی آئی میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی (ن) لیگ کی پنجاب پالیسی کی مخالفت میں پی ٹی آئی کے قریب ہونا چاہتی ہے تاکہ آیندہ الیکشن میں (ن) لیگ کی مخالفت میں پی ٹی آئی سے بعض حلقوں میں مدد لے کر کامیابی حاصل کر سکے کیونکہ وہاں مسلم لیگ (ن) مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔