دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ پر امریکا کی نظریں کیوں؛ مختصر تاریخ

صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کے بیان نے عالمی سطح پر پھر شدید بحث چھیڑ دی جب کہ وہاں کی عوام کے ذہن میں وقت کی دھند میں دھندلا جانے والا ماضی پھر جگمگا اُٹھا۔

اس سے پہلے کہ گرین لینڈ کی تاریخ کا احاطہ کیا جائے، یہ جان لینا مناسب ہوگا کہ اگر ٹرمپ گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ امریکا کے ہاتھ لگنے والا تاریخ کا سب سے بڑا زمین کا ٹکڑا ہوگا۔

گرین لینڈ امریکا کے لیے لوزیانا کی خریداری، میکسیکن سیشن اور الاسکا کی خریداری سے بھی کہیں بڑا زمینی ٹکڑا ہوگا۔

خود امریکی سرکاری ریکارڈز کے مطابق گرین لینڈ کا کل رقبہ 836,000 مربع میل ہے، جو فرانس، برطانیہ، اسپین، اٹلی اور جرمنی کے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ ہے۔

یہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اگر امریکا اسے حاصل کر لے تو یہ اب تک شامل کیے گئے تمام امریکی علاقوں میں سب سے بڑا ہوگا۔

ٹرمپ کی دلچسپی کی وجوہات

گرین لینڈ کا حصول امریکا کے لیے قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے نہایت ضروری ہے کیونکہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی سرگرمیاں امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی دلچسپی میں علاقے کی وسعت اور علامتی طاقت بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

کارنیل یونیورسٹی کے مؤرخ ڈیوڈ سل بی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایک رئیل اسٹیٹ شخصیت ہیں اور اتنی بڑی زمین پر قبضہ کرنے کا تصور ہی ان کے لیے کشش رکھتا ہے یعنی ‘اب تک کی سب سے وسیع و عریض زمین۔

گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش کی تاریخ

امریکا نے 1867 اور 1946 میں بھی گرین لینڈ خریدنے کے امکانات پر غور کیا تھا مگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

اس کے بعد بھی امریکا نے یہ کوششیں ختم نہ کی اور بعد میں آنے والے تمام ہی صدور نے اپنے اپنے دور میں گرین لینڈ پر قبضے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔

یہاں تک امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش ناتمام کو حقیقت میں بدلنے کی ٹھان لی ہے اور وہ اس کے لیے کچھ بھی کرنے کے موڈ میں ہیں۔

گرین لینڈ کی مختصر تاریخ

گرین لینڈ میں انسانی آبادکاری تقریباً 2500 قبل مسیح میں ہوئی جب آرکٹک خطے کے قدیم انویٹ (Eskimo) قبائل یہاں آباد ہوئے تھے۔

اس کے بعد وائکنگ دور میں تقریباً 982 عیسوی میں نارویجین وائکنگ ایرک دی ریڈ نے گرین لینڈ دریافت کیا اور یورپی آبادکاری کی بنیاد رکھی۔

1261 میں گرین لینڈ نے باضابطہ طور پر ناروے کی بادشاہت کی اطاعت قبول کی اور نارویجین سلطنت کا حصہ بن گیا۔

اسی طرح 1380 میں ناروے اور ڈنمارک کے اتحاد کے بعد گرین لینڈ عملی طور پر ڈنمارک کے کنٹرول میں آ گیا۔

نوآبادیاتی دور یعنی 1721 میں ڈنمارک نے گرین لینڈ میں دوبارہ باضابطہ نوآبادی قائم کی اور مسیحی مشنری سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔

1941 سے 1945 تک دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کے ڈنمارک پر قبضے کے بعد امریکا نے یہاں جڑیں مضبوط کیں۔

امریکا نے پہلی مرتبہ گرین لینڈ میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے اور دفاعی کنٹرول سنبھالنے کا موقع مل گیا البتہ خودمختاری ڈنمارک کے پاس ہی رہی تھی۔

1953 میں گرین لینڈ کو ڈنمارک کی نوآبادی کے بجائے ڈنمارک کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا اور 1979 میں داخلی خودمختاری حاصل ہوئی۔

البتہ یہ خود مختاری بتدریج ملتی رہی تھی اور  2009 میں جاکر گرین لینڈ کو وسیع خودمختاری ملی جب دفاع اور خارجہ امور کے سوا زیادہ تر اختیارات مقامی حکومت کے پاس آ گئے۔

آج کا گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو اب بھی ڈنمارک کی بادشاہت کا حصہ ہے لیکن داخلی طور پر خودمختار مگر دفاع اور خارجہ امور میں ڈنمارک پر انحصار کرتا ہے۔

گرین لینڈ کے سابق رکنِ پارلیمان اقالوگ لِنگے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ہر شہری کو ایک ملین ڈالر بھی دے تو ہم یہ سودا قبول نہیں کریں گے۔ ہم اپنی روح فروخت نہیں کرتے۔

Similar Posts