ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ یہ بیان انہوں نے منگل کو امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کے کئی اہلکاروں کی حالیہ دھمکیوں کے ردِعمل میں دیا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جنرل ناصر زادہ نے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ امریکی-اسرائیلی جارحیت کے دوران کی نسبت کہیں زیادہ تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران کے پاس کئی ایسے ”سرپرائز“ موجود ہیں جو انتہائی مؤثر ثابت ہوں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر یہ دھمکیاں عملی شکل اختیار کریں تو ہم ملک کا دفاع مکمل طاقت سے کریں گے، آخری قطرہ خون تک اور ہمارا دفاع ان کے لیے دردناک ثابت ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ وہ ممالک جو ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جارحیت میں معاونت فراہم کرتے ہیں یا فراہم کر سکتے ہیں، وہ جائز ہدف ہوں گے۔ جنرل ناصر زادہ نے کہا کہ 12 روزہ جارحیت سے ہونے والے نقصانات کی بڑی حد تک تلافی کر دی گئی ہے اور فوجی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب، ایران کے چیف آف اسٹاف، میجر جنرل سید عبدالرّحیم موسوی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے سیکیورٹی اہلکار کسی بھی موقع پر غیر ملکی مدد یافتہ دہشت گردوں کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنرل موسوی نے یہ بیان 12 جنوری کو ملک بھر میں ہونے والے حکومت حمایت مظاہروں میں عوام کی شمولیت کو سراہتے ہوئے دیا، جو حالیہ ہنگاموں کے خلاف تھے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے جون 2025 کی 12 روزہ جنگ میں اپنے نقصانات کی تلافی کے لیے داعش طرز کے دہشت گرد ایران بھیجے تاکہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کریں۔
جنرل موسوی نے مزید کہا کہ ان بے رحم دہشت گردوں نے معصوم ایرانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور آزادی کے دفاع میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے حوالے سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے۔ اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو بار بار دھمکی بھی دی کہ اگر ایران مبینہ ”پرامن مظاہرین“ کو نشانہ بناتا ہے تو اسے جواب ملے گا۔
منگل کے روز بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران کی عوام کو اداروں پر قبضے کے لیے اُکسانے کی کوشش کی، ایرانی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ محبِ وطن ایرانیوں! احتجاج جاری رکھو اور اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو۔ امریکا آپ کی مدد راستے میں ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے، جو امریکی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، خاص طور پر کرنسی اور تیل کی برآمدات پر اثر پڑا۔ ساتھ ہی ایرانی حکام نے یہ تہیہ بھی کیا کہ وہ ملک میں امریکی اور اسرائیلی مدد یافتہ ہنگاموں کو سختی سے کنٹرول کریں گے۔
خیال رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران کے سرکاری عہدیدار کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ ایران میں جاری مظاہروں میں اب تک تقریباً 2,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایران نے ملک بھر میں جاری احتجاج کے بعد منگل کے روز اپنے شہریوں کو موبائل فون کے ذریعے بیرونِ ملک کال کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ تاہم انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز بدستور معطل ہیں۔