عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا دعویٰ انھوں نے صحافیوں کو ایک طویل بریفنگ میں دیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کے خیال میں اسپین نے صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز کے پیغام کو واضح طور پر سن لیا ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔
لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اسپین میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ تمام یورپی اتحادی تعاون کریں گے کیوں کہ ایرانی حکومت نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں ترجمان وائٹ ہاؤس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپین حکومت اب بھی اپنی اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ پالیسی برقرار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
جس پر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا تھا کہ اسپین کسی ایسے اقدام میں شریک نہیں ہوگا جو دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا اس کے قومی مفادات اور اقدار کے خلاف ہو، چاہے اس کے نتیجے میں کسی قسم کی جوابی کارروائی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔