ایک کہاوت، ایک کہانی

کیا پاکستان میں اب بھی کتابیں پڑھی جاتی ہیں؟ حسن امام صدیقی بلدیہ کراچی کے ریٹائر افسر ہیں۔ کراچی پریس کلب میں انتخابات کی نگرانی کا فریضہ انتہائی محنت سے انجام دیتے ہیں۔ صدیقی صاحب نے راقم کو اطہر اقبال کی بچوں کے لیے لکھی ہوئی کتاب ’’ ایک کہاوت، ایک کہانی‘‘ دی۔ اس کتاب کا سرورق خوبصورت اور جاذب نظر لگا۔ کتاب خاصی ضغیم اور 320 صفحات پر مشتمل ہے۔

کتاب کی قیمت بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔ میں نے صدیقی صاحب سے کہا کہ ’’ کیا والدین یہ کتاب اپنے بچوں کے لیے خریدیں گے؟‘‘ پھر حسن امام صدیقی مجھے کراچی ایکسپو سینٹر میں لگنے والی کتابوں کی نمائش میں لے گئے۔ صدیقی صاحب نے وہاں پہنچ کر بتایا کہ اطہر اقبال نے فرید پبلشر کے اسٹال پر مدعوکیا ہے جنھوں نے اطہر اقبال کی کتاب شائع کی ہے، یہ اتوار کا دن تھا۔ اس دن ہزاروں افراد کتابوں کی نمائش میں موجود تھے۔ ان میں خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد تھی۔ ہجوم اتنا تھا کہ شور میں موبائل کی گھنٹی بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ بہرحال ہم لوگ ہجوم میں سے راستہ بناتے ہوئے اسٹال پر پہنچ گئے۔

اس اسٹال پر لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ اطہر ہجوم میں گھرے ہوئے تھے۔ ان کی کتاب دھڑا دھڑ فروخت ہورہی تھی۔ خریدنے والوں میں مرد ، خواتین اور بچے شامل تھے اور ہر شخص کی خواہش تھی کہ مصنف کتاب پر کچھ لکھ دیں اور دستخط کریں۔ اطہر اقبال نے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ہمیں چائے پلانا چاہتے ہیں اور چائے پینے کے لیے پہلی منزل پر جانا تھا۔ وہ تھوڑی دیر بعد ہمیں لے کر پہلی منزل کی طرف بڑھے ہی تھے کہ ان کا بلاوا آگیا۔ ان کی کتاب کے خریدار ان سے ملنے اور کتاب پر دستخط کے لیے ان کے منتظر تھے۔ وہ واپس چلے گئے مگر میرا یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا کہ لوگ کتابیں نہیں خریدتے۔

 اطہر اقبال یکم اپریل 1967کو کراچی کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے چچا یونس ہمدم ایک شاعر، کہانی کے مصنف اور پاکستان کی فلمی صنعت کے نقاد ہیں۔ چھوٹے چچا صابر صاحب سینئر صحافی ہیں۔ اطہر اقبال کو قسمت سے 23 فروری 1992 کو بلدیہ کراچی میں ملازمت مل گئی۔ ان کا شمار بلدیہ کراچی کے سینئر افسروں میں ہوتا ہے۔

پاکستان کے سرکاری دفاتر میں کام نہ کرنے کی روایت کب شروع ہوئی یہ تو نہیں بتایا جاسکتا مگر یقینی طور پر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ روایت بہت گہری ہے۔ بلدیہ کراچی بھی کام نہ کرنے کے حوالے سے مشہور ہے مگر اطہر اقبال نے اس روایت سے انحراف کرتے ہوئے اپنے کام پر توجہ دی اور اپنے دفتری کام کے ساتھ ادب تخلیق کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ادب میں سب سے مشکل صنعت بچوں کے ادب کو تخلیق کرنے کا عزم کیا۔ وہ اب تک بچوں کی دلچسپی کے موضوعات پر تقریباً 10 کے قریب کتابیں لکھ چکے ہیں۔

 اطہر اقبال ادبِ اطفال کے اُن لکھاریوں میں شامل ہیں جنھیں ہم حقیقی معنوں میں بچوں کے ادب کا لکھاری کہہ سکتے ہیں ، اطہر اقبال نے مختلف مقبولِ عام کہاوتوں اور مُحاوَرات پر جس انداز سے کہانیوں کی صورت میں کتابیں لکھی ہیں وہ ان ہی کا خاصہ ہے، مختلف کہاوتوں اور مُحاوَرات پر پانچ سو سے بھی زائد کہانیاں تخلیق کرنا اور انھیں دلچسپ اور مزے مزے کی کہانیوں کی صورت میں تحریرکرنا کوئی آسان کام نہیں، اطہر اقبال نے گو کہ اس سے قبل ’’ ایک کہاوت، ایک کہانی‘‘ کے تین علیحدہ علیحدہ حصے (جِلدیں) تحریر کی ہیں مگر انھیں ہم پرائمری سطح یا اسکول کی سطح تک کے مزاج اور معیارکی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ اُن تینوں حصوں میں زیادہ تر آسان کہاوتیں یا یوں کہہ لیں کہ عام بول چال میں استعمال ہونے والی کہاوتیں شامل ہیں مگر اب جو اطہر اقبال نے ’’ ایک کہاوت، ایک کہانی ‘‘ کا چوتھا حصہ (جِلد چَہارم) تحریر کی ہے، اسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اطہر اقبال کی ’’ ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ کی جِلد چَہارم نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ بڑوں کے لیے بھی انتہائی مفید ہے، اس لیے ہم اطہر اقبال کی ’’ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ کی جِلد چَہارم کو سیکنڈری سطح کی تعلیم یا کالج کی سطح تک کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اطہر اقبال کی ’’ ایک کہاوت، ایک کہانی‘‘ کی پہلی تین جلدیں آسان اردوکی طرز پر تحریر کی گئی ہیں جب کہ ’’ ایک کہاوت، ایک کہانی ‘‘ کی جِلد چَہارم ایڈوانس اردوکی طرز پر تحریر کی گئی ہے ۔ یہ کتاب صرف بچوں کے لیے نہیں، بلکہ بڑوں کے لیے بھی تازگی اور بصیرت کا ذریعہ ہے۔ کہاوتیں وقت کی قید سے آزاد ہیں اور ان پر لکھی یہ کہانیاں بھی صدیوں تک اپنی معنویت برقرار رکھیں گی۔ اطہر اقبال کی اَب تک دَس کتابیں شائع ہو کر منظرِ عام پر آچکی ہیں، مصنف کی سب سے زیادہ مقبولِ عام کتاب ’’ ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ ہے، جس نے بہت زیادہ شہرت پائی۔

 ’’ایک کہاوت ایک کہانی ‘‘ کی پہلی اور دوسری جِلدیں نیشنل بک فاؤنڈیشن حکومتِ پاکستان سے ایوارڈ یافتہ بھی ہیں۔ کتاب ’’ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ کو فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (FGEI) سمیت حکومتِ سندھ کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے مفید قراردیا ہے۔ اطہر اقبال کی تحریر کی ہوئی۔ ’’ ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ نے جہاں بے پناہ مقبولیت حاصل کی وہیں اِن کی دیگر کتابیں ایک مُحاوَرَہ ایک کہانی، فرار سے گرفتاری تک، ریڈیائی خاکے، جھیل سیف الملوک تک ، سوات سواد اور ’’ مسافر حرم کا ‘‘ بھی مقبولیت حاصل کرچکی ہیں ۔ اطہر اقبال نے کہاوتوں کی تلاش اور ان کے انتخاب میں بے پناہ باریک بینی اور ان کے اثرات کا بھرپور جائزہ لینے، ان کے گھسا پٹا نہ ہونے کی یقین دہانیوں کے بعد ہی انھیں لکھا۔ ساتھ ہی عنوان کی دلچسپی کو سمجھنے میں مہینوں کی محنت شاقہ سے کام لیا ہے، وہ کہتے ہیں مجھے کہاوتوں پر کہانیاں لکھنے میں اتنا وقت نہیں لگا، جتنا ان کے انتخاب اور چھان بین پر اَن گنت دن رات صرف ہوئے۔

امجد اسلام امجد، احمد ندیم قاسمی، محمود شام اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ جیسے عظیم لکھاری اور شعرا کی آراء گزشتہ کتابوں میں شامل رہیں، اس بار ’’ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ ( جِلد چَہارم) میں رضا علی عابدی (لندن) کی رائے کتاب کا حصہ ہے۔ اطہر اقبال کی کتاب ’’ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ اس قابل ہے کہ اس کی جتنی پذیرائی کی جائے وہ کم ہے۔ اطہر اقبال کی اس کتاب کو نصاب میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے، تاکہ بچے کہاوتوں کا استعمال آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ اطہر اقبال جس طرح دلچسپی اور تسلسل کے ساتھ کہاوتوں اور مُحاوَرات پر بالخصوص بچوں کی آگاہی کے لیے کام کر رہے ہیں، وہ قابل تحسین ہے۔

اطہر اقبال کی کتابوں کو پڑھ کر بچے اور بڑے سب ہی ان کہاوتوں کے معنی اور استعمال سے بخوبی واقف ہو رہے ہیں۔ اطہر اقبال کے اس تحقیقی کام پر ہم سب کو انھیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرنی چاہیے تاکہ یہ اپنے اس علم و آگاہی کے سفر کو نہ صرف اپنے لیے بلکہ ہمارے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے جاری رکھ سکیں ۔

Similar Posts